انوارالعلوم (جلد 16) — Page 521
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو سے نکال دینا چاہئے۔ لیکن اگر شودر کسی برہمن سے قرض لے بیٹھتا ہے اور پھر ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتا تو منو کے احکام کے مطابق اس کا فرض ہے کہ وہ اونچی ذات والوں کی نوکری کرے اور اس طرح قرض کو ادا کرے۔ پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ اس تعلیم کا اثر اور آگے چلتا ہے چنانچہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کی کئی بیویاں ہوں تو ایسی حالت میں :- ایک کی اولاد جو برہمنی سے ہے وہ اس کی جائداد کے تین حصہ لے اور جو کشترانی سے ہے اُس کی اولاد دو حصے لے اور جو ویشیا ہے اس کی اولاد ڈیڑھ حصہ لے اور شودرانی کی اولاد ایک حصہ لے ، اس تعلیم کے ماتحت مرنے والے کی جائداد میں سے برہمنی کی اولاد کو تین حصے، کھترانی کی اولاد کو دو حصے، ویش کی اولاد کو ڈیڑھ حصہ اور شودرانی کی اولاد کو ایک حصہ ملے گا ۔ اب بتاؤ اس نظام کے ماتحت وہ ادنیٰ حالت سے اونچے کس طرح ہو سکتے ہیں ۔ پھر لکھا ہے کہ :- وو بر همن شودر سے دولت لے لے۔ اس میں کوئی وچار نہ کرے کیونکہ وہ دولت جو اس نے جمع کی ہے وہ اس کی نہیں بلکہ برہمن کی ہے ۔ اس تعلیم کے ماتحت برہمنوں کو اور زیادہ آسانی حاصل ہو گئی کیونکہ انہیں اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ شودروں کے پاس جب بھی تمہیں دولت نظر آئے فوراً لوٹ لو اور کوئی و چار یعنی فکر نہ کرو کہ اس ٹوٹ سے گناہ ہوگا کیونکہ شودر کا مال اس کا نہیں بلکہ تمہارا ہے جب بھی تم کسی شودر کے پاس مال و دولت دیکھو فورا لوٹ لو اور اپنے قبضہ میں کر لو۔ یہ وہ تعلیم ہے جو ہندو مذہب پیش کرتا ہے اور چونکہ ہندو مذہب میں سوائے برہمنوں ، کھتریوں اور ویشوں کے سب کو شو در سمجھا جاتا ہے اس لئے جس قدر سید مغل اور پٹھان وغیرہ ہیں سب ہندوؤں کے نزدیک شودر ہیں اور ان سب کے متعلق برہمنوں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ان کی دولت کو لوٹ لیں ۔ اگر کوئی شخص روپیہ کمائے اور برہمن اس سے وہ روپیہ ٹوٹ لے تو اس کا کوئی حق نہیں کہ عدالت میں دعوی دائر کرے اور اگر وہ عدالت میں دعوی دائر کرے گا تو منو کی اس تعلیم کے ماتحت اسے کہا جائے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا تو وہ مال تھا ہی نہیں وہ تو برہمن کا مال تھا۔ گویا اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص کہیں سے گزر رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ لوگ ایک ۴۸