انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 500

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو اٹلی اور جرمنی کی طرف سے بالشوزم کے خلاف اور ناٹسزم غرض جرمنی اور اٹلی میں بھی عوام الناس اور فیسزم کی حمایت میں پرو پیگنڈا کے مختلف ذرائع پر اس تحریک کا اثر ہونے لگا اور لوگ یہ کہنے لگ گئے کہ ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ اس سے ہر شخص کو آرام حاصل ہو جائے گا اور دُکھ درد جاتا رہے گا۔ جرمنی اور اٹلی کی طرف سے بالشوزم آخر ہٹلر اور مسولینی نے اس کا توڑ نکالا اور لوگوں سے کہا کہ تم فکر نہ فکر نہ کرو ناٹسزم م اور فیسزم کے خلاف پروپیگنڈا کا پہلا ذریعہ بھی امیروں کے مالوں پر قبضہ کرے گی اور ملک کی تمام تجارتوں اور صنعت و حرفت پر قبضہ کر کے غریبوں کو ان کا حق دلوائے گی ۔ پس آئندہ براہِ راست مزدور اور سرمایہ دار کا تعلق نہیں ہو گا بلکہ حکومت کے توسط سے ہوگا اور اس طرح انہیں وہ تکلیف نہیں ہوگی جو تاجروں سے پہنچتی ہے یا کارخانہ داروں سے پہنچتی ہے کیونکہ ہماری حکومتیں تجارتوں اور صنعت و حرفت پر خود قبضہ رکھیں گی اور اس طرح غریبوں کا حق انہیں دلوائیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو مالدار بنانے کے لئے بڑے بڑے کارخانوں کی ضرورت ہے، بڑی بڑی تجارتوں کی ضرورت ہے تا کہ مالداروں سے مال لے کر تمہاری بہتری پر خرچ کیا جا سکے اس غرض کے لئے ضروری ہے کہ بیرونی ممالک سے تجارت جاری رکھی جائے اور اس طرح اُن کے مال کو ٹوٹ کر اپنے ملک کے غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کیا جائے مثلاً انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تم چین کو نہیں ٹوٹ سکتے ۔ تم امریکہ، انگلستان یا فرانس کو نہیں ٹوٹ سکتے ، ٹوٹنے کا طریق یہی ہے کہ ہمارے پاس بڑے بڑے جہاز ہوں ، بڑے بڑے کارخانے ہوں ، بڑی بڑی تجارتیں ہوں اور ہمارے تاجر باہر جائیں اور ان ممالک کے اموال ٹوٹ کر لے آئیں ۔ پس انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو سبق دیا کہ تم ان بڑے بڑے تاجروں کو مال کمانے دو پھر ان سے مال چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہی مثال ہو جائے گی جیسے کہتے ہیں کہ کسی شخص کے پاس ایک مرغی تھی جو روزانہ ایک سونے کا انڈہ دیا کرتی تھی اُسکے دل میں حرص پیدا ہوئی کہ اگر میں اسے زیادہ کھلاؤں گا تو یہ دو انڈے روزانہ دیا کرے گی چنانچہ ایک دن اُس نے اسے خوب کھلا یا مگر ۲۷