انوارالعلوم (جلد 16) — Page 489
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو غرباء کی حالت سدھارنے کے اس کے بعد ایک شخص کارل مارکس نے پیدا ہوا ۔ یہ جرمن یہودی النسل تھا مگر مذہباً عیسائی تھا متعلق کارل مارکس کے تین نظریے اس نے اس مسئلہ پر غور کیا اور غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ جو سوشلزم کہہ رہی ہے کہ آہستہ آہستہ اصلاح کی جائے اور امیروں پر دباؤ ڈال کر ان سے مزدوروں اور غرباء کے حق حاصل کئے جائیں اس طرح تو پچاس سو بلکہ ہزار سال میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اصل خرابی یہ ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت ہے وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے پس اس کی اصلاح کا آسان طریق یہ ہے کہ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی جائے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے یہ کیا طریق ہے کہ اگر حکومت کسی جگہ نہر نہیں نکالتی تو نہر کے لئے اس سے سو سال تک جنگ جاری رکھی جائے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لو اور نہر نکال لو۔ یا یہ کیا کہ فلاں کارخانہ میں چونکہ اصلاح نہیں اس لئے حکومت پر اس کے متعلق زور دیا جائے اور برسوں اس پر ضائع کئے جائیں سیدھی بات یہ ہے کہ حکومت ہاتھ میں لو اور تمام مفاسد کا علاج کرلو ۔ پس مارکس نے یہ اصول رکھا کہ سیاسیات میں پڑے بغیر ہم تمدنی اصلاح نہیں کر سکتے ۔ جب تک سیاست ہاتھ میں نہ آجائے اور جب تک حکومت کے اختیارات قبضہ میں نہ آجائیں اس وقت تک کوئی سیاسی یا تمدنی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ مارکسزم اور اس کا پہلا اصول پس مارکسزم جو انٹر مقتل سوشلزم کی ایک شاخ ہے جبر کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مؤید ہے اور اقتصادی تغییرات سے آزادی حاصل کرنے کی بجائے سیاسی تغییرات سے آزادی حاصل کرنے کی حامی ہے۔ پھر اسی نظریہ کے ساتھ مارکسزم یہ بات بھی پیش کرتی ہے کہ سوشلزم والے اس لئے کامیاب نہیں ہو سکے کہ انہوں نے امیروں سے مل کر کام کرنا شروع کر دیا حالانکہ امیروں کا قبضہ اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے غرباء کو کوئی حق حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ مارکس کے نزدیک ڈیما کریسی کا اصول بالکل غلط ہے اور امیروں اور غریبوں کا میل جول بھی غلط ہے۔ اس کے نزدیک امیروں کو ایسا ہی سمجھنا چاہئے کہ گویا وہ انسان نہیں اور جو اختیار غرباء کو ملیں وہ انہیں اپنے قبضہ میں لے لیں ۔ مارکسزم کا دوسرا اصول دوسرا نظریہ اس نے یہ پیش کیا کہ ہمیں اس غرض ہمیں اس غرض کے لئے جبر کرنا چاہئے ۔ جتھا بناؤ ، حملہ کرو اور حکومت پر قبضہ کرلو۔ یہی کارل مارکس ۱۶