انوارالعلوم (جلد 16) — Page 473
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور مجالس سے اس کے متعلق رپورٹیں لیتے رہیں ۔ بعض جماعتوں نے لکھا ہے وہ بھی اس کے لئے تیار ہیں بعض جگہ پڑھانے والے نہیں ملتے یا پڑھانے والا ایک آدھ ہے تو پڑھنے والے زیادہ ہیں اور وہاں ایک انا رصد بیمار کی مثال صادق آتی ہے۔ دیہات میں بھی استادوں کی ضرورت ہے۔ ہر جگہ کے لئے ایسے استاد مہیا کرنا جو ایک ایک آیت کر کے سالہا سال میں قرآن کریم کا ترجمہ ختم کر اسکیں تو مشکل ہے البتہ میری تجویز ہے کہ بعض ایسے استاد مقرر کئے جائیں جو مختلف مقامات پر دود و ماہ ٹھہر کر ان لوگوں کو ترجمہ پڑھا دیں جو اس عرصہ میں پڑھ سکتے ہوں اور پھر وہ آگے اپنے اپنے ہاں کے دوسرے لوگوں کو آہستہ آہستہ پڑھاتے رہیں ۔ الفضل ۲۸ رفروری ، یکم مارچ ۱۹۴۵ء) ل لَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا (بنی اسرائیل: ۳۸) بخاری کتاب الاذان باب فَضْل صَلوةِ العِشَاءِ فِي الجَمَاعَةِ