انوارالعلوم (جلد 16) — Page 465
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور اقدام کیا گیا تو اسے یقیناً ندامت اُٹھانی پڑے گی جیسی پہلے اُٹھانی پڑی ہے۔ اس کے متعلق شبہ کرنے کی جو وجوہات میں نے سنی ہیں وہ بہت عجیب ہیں مثلاً یہ کہ اس کے سالانہ جلسے کے موقع پر بعض نو جوانوں نے گٹکا کھیلا اس لئے یہ مجلس بہت خطرناک ہے اور اس معاملہ کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ میں نے سنا ہے مرکز سے بھی سی ۔ آئی۔ ڈی کے افسر تحقیقات کے لئے آئے ہیں وہ اگر آتے ہیں تو شوق سے آئیں مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ محرم وغیرہ کے جلوس پر اعلیٰ افسروں کی موجودگی میں گت کا وغیرہ کھیلا جاتا ہے اور جو چیز محرم کے موقع پر جائز ہے وہ خدام الاحمدیہ کے جلسہ کے موقع پر کیونکر نا جائز ہوگئی ؟ اور اگر حکومت اسے منع کرے تو اس کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس کے پروگرام کا کوئی حصہ نہیں لیکن میں حیران ہوں کہ وہ حکومت ہی کیا ہے جو یہ خیال کرتی ہے کہ اگر چند نو جوان گت کا سیکھ گئے تو اس کا قائم رہنا محال ہوگا جہاں اس زمانہ میں اینٹی ایر کرافٹ اور اینٹی ٹینک گنز بن چکی ہیں وہاں ایک گٹکا جاننے والا کیا کر سکتا ہے یہ بالکل بچوں والی بات ہے اور بالکل غلط طریق ہے۔ دوسری حکومتیں تو خود لوگوں کو بہادر بناتی ہیں مگر ہماری حکومت گنگا سے ڈرتی ہے۔ اور لوگوں کا عام طریق یہ ہے کہ جس بات سے روکا جائے اس کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ تلوار رکھنے کی آزادی ہونی چاہئے مگر جب میں سال کے جھگڑے کے بعد حکومت نے آزادی دے دی تو اب لوگ کہتے ہیں کہ چھوڑ و تلوار پر پانچ روپے کون خرچ کرے تو جتنا روکو اتنا ہی زیادہ جوش پیدا ہوتا ہے ۔ حکومت نے اسلحہ پر لائسنس کی پابندی لگا رکھی ہے مگر جو لوگ جرائم کرتے ہیں وہ لائسنس لیتے ہی کہاں ہیں وہ تو بغیر لائسنس کے اسلحہ رکھتے ہیں ۔ اعداد و شمار جمع کر کے اس امر کی تصدیق ہو سکتی ہے کہ مثلاً بندوق سے جو لوگ مارے گئے اُن میں سے اکثر انہی لوگوں نے مارے جن کے پاس بندوق کا کوئی لائسنس نہیں لائسنس رکھنے والے دوسروں کو کہاں مارتے ہیں ۔ پس حکومت کی یہ پالیسی بالکل غلط ہے اس سے تو بہتر ہے کہ وہ حکم دے دے کہ چوڑیاں پہن لو اور گھروں میں بیٹھو بلکہ چاہئے کہ لوگوں کی اُنگلیاں بھی کٹوادے کہ ان سے مکا مارا جا سکتا ہے بعض لوگوں کے دانتوں میں ایسا زہر ہوتا ہے کہ کسی کو کاٹیں تو مر جاتا ہے اس لئے بتیس کے بتیس دانت بھی نکلوا دینے چاہئیں ۔ یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ جس حکومت کے پاس تو ہیں، بندوقیں، ہوائی جہاز ، ٹینک وغیرہ سب کچھ ہیں اُسے اِس بات پر اعتراض ہے کہ بعض نوجوان گنکا کیوں سیکھتے ہیں اسے تو چاہئے کہ خود ایسی باتوں کا انتظام کرے تالوگوں میں جرات اور بہادری پیدا ہو اور جنگ میں زیادہ امداد مل سکے۔ ادھر یہ بھی