انوارالعلوم (جلد 16) — Page 457
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور وہ بھی نہیں ملتا ۔ پس ان باتوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور جب خدا تعالیٰ نے عقل اور سمجھ دے رکھی ہے تو کیوں اپنے آپ کو اور اپنے بال بچوں کو تکلیف میں ڈالا جائے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ جنگ کے موقع پر بھی قحط پڑا تھا مگر وہ جلد ہی دُور ہو گیا تھا مگر یہ خیال صحیح نہیں یہ جنگ اس سے بہت مختلف ہے اور میرا خیال ہے اب کے قحط بہت لمبا ہوگا ۔ دوسری بڑی تکلیف آج کل کپڑے کی ہے میرے سامنے کچھ عرصہ کپڑا حاصل کرنے میں ہوا ایک عزیز نے یہ تکلیف بیان کی کہ کپڑا بہت گراں ہو گیا ہے۔ تو میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ کھدر پہنیں کپڑے پر تاجر بہت دقت اور اس کا علاج زیادہ نفع لگاتے ہیں۔ فرض کرو ایک من روٹی کی قیمت پچاس روپیہ ہو تو ایک من کپڑے کی قیمت قریباً پانسو روپیہ ہوتی ہے لیکن اگر زمیندار پھر گھروں میں چرخوں کو رواج دیں۔ سوت کا تیں اور جولا ہوں سے کپڑا بنوا کر استعمال کریں تو کوئی تکلیف نہ ہوگی ۔ ململ ، لٹھا اور دوسرے ایسے کپڑوں کا استعمال ترک کر دیں۔ میں نے تو تجویز کی ہے کہ جب میری موجودہ قمیصیں پھٹ جائیں تو کھڈر کی بنواؤ نگا اور اپنے گھروں میں بھی کہا ہے کہ ایک ایک چرخہ منگواؤ، رُوئی خریدو اور سوت کات کر کھڈر بنواؤ۔ شہر کے لوگ عام طور پر یہ نہیں کر سکتے مگر دیہات کے بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں اور اس طرح اپنا بہت سا روپیہ بچا سکتے ہیں۔ میں یہاں اس امر کی وضاحت کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کانگرس کے اصول کی اتباع نہیں بلکہ اپنی تکلیف دور کرنے کی وجہ سے یہ تحریک کر رہا ہوں ۔ کھانڈ کی بجائے گڑ اسی طرح اب گر کر نکلنے والا ہے دوستوں کو چاہئے کہ فی الوسع وہ بھی جمع کر لیں اور کھانڈ مصری کی بجائے اسے استعم استعمال کریں ۔ آخر ہمارے پُرانے زمانہ شکر استعمال کریں باپ دادا پہلے انہی چیزوں کا ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ پرا میں تو ہمارے ملک میں گا میں گڑ ایک نعمت سمجھی جاتی تھی ۔ تھی۔ کہتے ہیں کچھ لڑ کے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ملکہ انگلستان کیا کھاتی ہوگی کسی نے کہا پلاؤ کھاتی ہو گی کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ بڑھا باپ یہ باتیں سن رہا تھا غصہ سے بولا کہ کیا تمہاری عقل ماری گئی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہو ملکہ تو گڑ کھاتی ہو گی ایک طرف بھی گڑ رکھا رہتا ہوگا دوسری طرف بھی گڑ اُدھر گئی تو گڑ کھا لیا اور ادھر آئی تو پھر گڑ کھا لیا۔ تو ہمارے ملک کا گڑا اتنا شاندار ہوتا تھا مگر اب وہ بھی تنزل میں آچکا ہے۔ زمینداروں نے بھی کھانڈ اور مصری کا استعمال شروع کر دیا ہے مگر اب میں