انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 453

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور کرتا ہوں کہ اس مجلس کے ممبر اس جھنڈے کے احترام کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے اور اپنی زندگیوں کو احمدیت کے مطابق بنا کر یہ ثابت کردیں گے کہ وہ واقعی اس انعامی جھنڈے کے مستحق تھے اور انتخاب غلط نہ تھا۔ گزشتہ سال کا قحط میں سال کے بعد نیا اور غلہ کے بارہ میں گورنمنٹ کی غلط پالیسی تلخ تجربہ کا پہلے اس کے تار فروری میں تھا۔ به شروع ہوئے تھے لیکن میں نے گزشتہ جلسہ سالانہ پر دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ انہیں غلہ وغیرہ کا انتظام کرنا چاہئے اور میں نے اعلان کر دیا تھا کہ جو دوست غلہ خرید سکتے ہیں وہ فوراً خرید لیں بعض نے خرید ا مگر بعض نے ہنس کر ٹال دیا اور دل میں سمجھ لیا کہ ہمارے پاس پیسے ہیں جب چاہیں گے لے لیں گے مگر جب آٹا وغیرہ ملنا بند ہوا تو اُن کو معلوم ہوا کہ وہ غلطی پر تھے۔ دراصل ایسے موقع پر زیادہ تکلیف پیسہ والوں کو ہی ہوتی ہے غریب تو فاقہ بھی کر سکتا ہے مگر امیر کے لئے ٹھوکا رہنا مشکل ہوتا ہے۔ میں اُس وقت سندھ میں تھا مجھے وہاں گندم کے ان دانوں کا نمونہ بھیجا گیا جو لوگوں کو کھانے کومل رہے تھے وہ بالکل سیاہ تھے اور اُن کی روٹیاں بالکل ایسی تھیں جیسے باجرہ کی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد جب فصل نکلی تو میں نے پھر اعلان کیا کہ دوست غلہ جمع کر لیں اور بعض نے کیا بھی ، نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت ہماری جماعت کے لوگوں کی حالت دوسروں کی نسبت بہت بہتر ہے۔ میں نے زمیندار دوستوں کو بھی یہ تحریک کی تھی کہ غلہ زیادہ پیدا کریں اور اسے حتی الوسع جمع رکھیں اور یہ ں اور بہت سے دوستوں نے ایسا کیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود خود بھی فائدہ میں رہے اور ان کے ذریعہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ قادیان میں بھی بہت سے لوگوں نے غلہ خرید لیا تھا مگر جنہوں نے نہ خریدا اور غفلت کی اُن کے لئے پھر غلہ مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تو سر گودھا کی جماعت نے مہیا کر دیا گو قیمتاً ہی دیا مگر یہ بھی غنیمت ہے کہ مل گیا ان کے پاس ذخائر تھے اور کئی سومن غلہ ہمیں مل گیا مگر میرے بار بار توجہ دلانے کے باوجود بعض لوگوں نے احتیاط نہ کی قادیان میں بھی بعض لوگوں نے نہ کی اور انہیں تکلیف ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں اس کی ایک وجہ پچھلے سال کا گورنمنٹ کا یہ اعلان تھا کہ لوگوں کو غلہ جمع نہ کرنا چاہئے کافی غلہ ہر وقت مل سکے گا۔ ہماری جماعت نے عام طور پر جمع کیا اور دوسرے لوگوں میں سے اُس طبقہ نے جو ہماری بات کی قدر کرتا ہے اس پر عمل کیا مگر گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ غلہ جمع نہ کیا جائے ورنہ چھین لیا جائے گا۔ مجھ سے بعض لوگوں نے اس بارہ میں دریافت کیا تو میں نے جواب دیا کہ کھانے کے لئے اپنے پاس