انوارالعلوم (جلد 16) — Page 436
انوار العلوم جلد ۱۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مستورات سے خطاب نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مستورات سے خطاب ( تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۴۲ء ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے ابھی موٹر پر آتے ہوئے دیکھا ہے کہ تمام سڑکیں اور بازار مردوں سے بھرے ہوئے ہیں اور جلسہ گاہ قریباً خالی پڑا ہوا ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ اس وقت تمہاری بھی یہی حالت ہے۔ قادیان کا جلسہ ایک مذہبی فریضہ ہے یہ دین سیکھنے کی جگہ ہے کھیل کود کی جگہ نہیں میلہ نہیں کہ جس کی روٹیاں تم کھانے آتی ہو ۔ ۳۶۵ دنوں میں سے ۳۶۲ دن تم اپنے کاموں کے لئے خرچ کر دیتی ہو صرف ۳ دن کے لئے تم قادیان میں آتی ہو وہ بھی ادھر اُدھر پھر کر خرچ کر دیتی ہو اور مجھتی ہو کہ تم نے خدا تعالیٰ کا حق پورا کر دیا در حقیقت میرے قلب کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ میرا دل اس وقت کوئی تقریر کرنے کو نہیں چاہتا اور جو کچھ میں اس وقت کہوں گا اپنے نفس پر جبر کر کے کہوں گا۔ دیکھو! منہ سے باتیں کرنا کسی کام نہیں آتا دنیا میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی جب تک اُس کا عمل اُس کے قول کے مطابق نہ ہو صحابہ کام زیادہ کرتے تھے اور باتیں کم قرآن کریم میں آتا ہے کہ منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق زیادہ باتیں کیا کرتے تھے، منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آکر کہا کرتے کہ ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے ، مومن تو بغیر قسمیں کھائے کہتے تھے مومنوں کے متعلق کہیں ذکر نہیں آتا کہ انہوں نے قسمیں کھائی ہوں لیکن منافقوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تو اللہ کا رسول ہے حالانکہ وہ جھوٹے ہوتے تھے لیے عورتوں کے لئے ایک بہت بڑے تغیر کی ضرورت ہے تمہاری حالت تو بالکل مردوں کی