انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 419

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب اس پر صرف ۳۲ نو جوان کھڑے ہوئے ۔ سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ۔ ) قادیان کے خدام میں سے ۱۵۲ نوجوان ایسے ہیں جنہیں سارا قرآن شریف با ترجمہ آتا ہے اور بیرونی خدام میں سے صرف ۳۲۔ ایسے ہیں جنہوں نے سارا قرآن شریف پڑھا ہوا ہے دیکھو یہ ہمارے لئے کیسی آنکھیں کھولنے والی بات ہے اور کس طرح یہ افسوسناک حقیقت ہم پر روشن ہوئی ہے کہ ہم میں سے بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے بھی قرآن شریف اچھی طرح نہیں پڑھا۔ اب وہ نوجوان جنہوں نے پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا ہوا ہے کھڑے ہو جائیں وہ لوگ بھی دوبارہ کھڑے ہونے چاہئیں جنہوں نے سارا قرآن شریف پڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا ہوا ہے ۔ (اس پر قادیان کے خدام میں سے ۲۴۹ اور بیرو بیرونی خدام میں سے چالیس کھڑے ہوئے حضور نے فرمایا۔) قادیان کے خدام میں سے ۲۴۹ ایسے ہیں جنہیں پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے گویا سارا قرآن کریم پڑھنے والوں کے مقابلہ میں قریباً ایک سو سے زیادہ ہیں اور بیرونی جماعتوں میں سے چالیس ایسے ہیں جنہیں پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے گویا سارا قرآن شریف پڑھے ہوئے نوجوانوں کے مقابلہ میں صرف آٹھ زیادہ ہیں۔ میں قادیان کے ان ۹۷ اور بیرونی مجالس کے آٹھ نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ خود ہی غور کریں کس طرح دروازے کے قریب پہنچ کر وہ اندر داخل ہونے سے محروم بیٹھے ہیں جب پندرہ سیپاروں سے زیادہ وہ قرآن شریف پڑھ چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ باقی قرآن شریف پڑھنے کی طرف بھی وہ توجہ نہ کریں ۔ اب میرے پاس وقت نہیں ورنہ میں دریافت کرتا کہ دس سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ کتنے نو جوانوں کو آتا ہے؟ اور پھر دریافت کرتا کہ پانچ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ کن کن کو آتا ہے؟ تاکہ اگلی دفعہ اندازہ کیا جاتا کہ پانچ سے دس اور دس سے پندرہ اور پندرہ سے بیس اور بیس سے تیس پارے کس نے پڑھ لئے ہیں بہر حال ہمیں قرآن شریف کے ترجمہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ : کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت میں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ رہے جسے قرآن کریم نہ آتا ہو۔ اگر ہم کبڈی کے مقابلے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر ہم دوڑ کے مقابا مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے ھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کتنے افسوس کی بات ہو گی اگر ہم قرآن شریف کی تعلیم اور اس کے مطالب کو سمجھنے میں ایک دوسرے سے