انوارالعلوم (جلد 16) — Page 408
انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدام الاحمدیہ سے خطاب ( فرموده ۱۸ راکتو بر ۱۹۴۲ء بر موقع چوتھا سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مجھے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ سال بیرونی خدام کی حاضری دوسو پچاس کے قریب تھی اور اس سال بیرونی خدام کی حاضری ۳۸۶ ہے ۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ قادیان کے ارد گرد بہت سی نئی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اور اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کو روز بروز زیادہ مکمل ہوتے چلے جانا چاہئے میرے نزدیک یہ حاضری تسلّی بخش نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ملازم پیشہ لوگوں کو اس دفعہ رخصتیں نہیں مل سکیں مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں گزشتہ سال بھی ملازم پیشہ لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی اس لئے یہ اثر در حقیقت زمینداروں کی کمی کی وجہ سے پڑا ہے۔ ابھی مجھے بتایا گیا ہے کہ ملازمت پیشہ لوگ با وجود رخصت نہ ملنے کے زیادہ تعداد میں شریک ہوئے ہیں اس لئے حاضری میں کمی زمینداروں کی طرف سے ہی ہوئی ہے۔ میرے نزدیک اس قسم کی ریلی میں یہ نہیں ہونا چاہئے کہ سارے خدام آئیں بلکہ ان کے نمائندے ہی اس موقع پر آنے چاہئیں ہاں اگر کوئی شخص شوق سے آنا چاہے تو اُسے آنے کی اجازت ہونی چاہئے یہ پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ نمائندوں کے سوا اور کوئی نہ آئے ۔ پھر ان نمائندوں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ یہاں کی کارروائیوں کو نوٹ کریں اور اپنی اپنی مجالس میں اسی لائن پر خدام الاحمدیہ کا اجتماع کریں مگر جیسا کہ میں نے کہا ہے جو شخص اپنی مرضی اور خواہش سے آنا چاہے اُسے روکنا نہیں چاہئے بلکہ اُسے بھی شامل ہونے کی اجازت دینی چاہئے ۔ (سوائے مجلس کے کہ جس میں صرف نمائندے ہونے چاہئیں ورنہ رائے شماری غلط ہو جائے گی ) پھر یہ امر مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ صدر کے انتخاب کے موقع پر ہر جماعت کا ووٹ اُس جماعت کے افراد کے لحاظ وہ