انوارالعلوم (جلد 16) — Page 406
انوار العلوم جلد ۱۶ ہمارا آئندہ رویہ ساتھ دیں گے لیکن اگر وہ ایسا اعلان نہ کرے گی تو ہم اپنے قومی تعاون کو جنگی کوششوں تک محدود رکھیں گے۔ اب میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ چونکہ وقت تھوڑا ہے ہر جگہ کی جماعتوں کو اپنے آپ کو فوراً زیادہ سے زیادہ منظم کرنا شروع کر دینا چاہیئے تا اگر ملک میں فساد ہو اور ہم حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کریں تو فوراً عملی کام شروع کیا جا سکے ۔ اگر اس دفعہ ہندوستان میں فساد ہوا تو وہ پہلے فسادوں کی طرح نہ ہوگا بلکہ غالباً بہت وسیع ہوگا اور باوجود کانگرس کے عدم تشدد کے دعوٹی کے وہ خون ریزی اور قتل وغارت کا پیش خیمہ ثابت ہوگا سو اس کا مقابلہ کرنے سے پہلے ہمارے دوستوں کو اپنی جانوں اور مالوں کی قربانیوں کا تہیہ کرنا پڑے گا ۔ وہ لوگ ہرگز اس کام کے لئے تیار نہ ہوں جو دوسرے دن مجھے خط لکھنے لگیں کہ کانگرسی ہمیں یوں ستاتے ہیں اور یوں دُکھ دیتے ہیں مرکز ہماری مدد کرے۔ ان بز دل سپاہیوں کی اس جنگ میں ضرورت نہ ہو گی جولڑائی پر جاتے ہوئے پہرہ کا مطالبہ کریں اُن کا مقام احمدیت میں نہیں ہے ان کو اپنی جانیں بچانے کے لئے ارتداد اختیار کر لینا چاہیئے کہ احمدیت کی بھٹی انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ ہمیں اگر اس جنگ میں شریک ہونا پڑا تو اس کی امید بھی نہ رکھنی ہوگی کہ حکومت ہماری مدد کرے گی یا مرکز ہماری مدد کرے گا بہادر ان اُمور کی طرف نگاہ نہیں رکھتے وہ صرف ایک بات جانتے ہیں قربانی اور پھر قربانی ۔ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔ خاکسار مرزا محمود احمد ( الفضل ۱۸ اگست ۱۹۴۲ء )