انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 377

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) سے سوال کیا کہ شادی بیاہ اور دوسرے معاملات میں آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو کیوں اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہمارے ساتھ تعلقات قائم کریں؟ آپ نے فرمایا اگر ایک مٹکا دودھ کا بھرا ہوا ہو اور اُس میں کھٹی لسی کے تین چار قطرے بھی ڈال دیئے جائیں تو سارا دودھ خراب ہو جاتا ہے۔ تو لوگ اس حکمت کو نہیں سمجھتے کہ قوم کی قوتِ عملیہ کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اسے دوسروں سے الگ رکھا جائے اور اُن کے بداثرات سے اُسے بچایا جائے ۔ آخر ہم نے دشمنانِ اسلام سے روحانی جنگ لڑنی ہے ۔ اگر اُن سے مغلوب اور ان کی نقل کرنے والے غیر احمدیوں سے ہم مل جل گئے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم بھی یورپ کے نقال ہو جائیں گے اور ہم بھی جہاد قرآنی سے غافل ہو جائیں گے ۔ پس خود اسلام اور مسلمانوں کے فائدہ کے لئے حکومتی اور سیاسی اور معاشرتی اتحاد کے آگے ہم کو دوسری جماعتوں سے نہیں ملنا چاہئے تا کہ ہم غافل ہو کر اپنا فرض جو تبلیغ اسلام کا ہے بھول نہ جائیں جس طرح دوسرے مسلمان بھول گئے ہیں ۔ خدا تعالیٰ اُن کو بھی ہدایت دے اور انہیں بھی یہ فرض ادا کرنے کی توفیق بخشے ۔ اسلام میں پہلے ہی سپاہیوں کی کمی ہے اگر تھوڑے بہت سپاہی جو اُسے میسر آئیں وہ بھی سست ہو جائیں تو انہوں نے اسلام کی طرف سے مقابلہ کیا کرنا ہے ۔ پس حق یہی ہے کہ یہ میٹھا پانی کڑوے پانی سے الگ رہے گا اور ایک برزخ ان دونوں کو جُدا جُدا رکھے گا، کاش ! دوسرے مسلمانوں میں بھی یہ حس پیدا ہو۔ نے یہ سب کچھ دیکھا طبعی ئی اور علمی تقاضوں کے پورا کرنے کا سامان جب میں نے یہ سب تو خیال کیا کہ شاید مینا بازار میں کوئی ایسی چیزیں بھی میں بھی ہوتی ہوں گی جن کا مجھے اس وقت علم وقت علم نہیں ، لیکن میرے نفس میں اُن کی طلب اور خواہش بعد میں کسی وقت پیدا ہو جائے ۔ پس میں نے کہا مجھے یہ چیزیں تو مل گئیں، لیکن ممکن ہے آ کے آئندہ کسی چیز کے متعلق میرے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوا، ہو اور وہ ملے یا نہ ملے ۔ جب میرے دل میں یہ خیال آیا تو معاً مجھے معلوم ہوا کہ جو غیر معلوم چیزیں ہوتی ہیں وہ عموماً دو قسم کی ہوتی ہیں ۔ (1) ایک وہ جو طبعی تقاضوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ (۲) دوسری وہ جو علمی تقاضوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ - پہلی قسم کی چیزوں کی مثال میں ٹھوک کو پیش کیا جا سکتا ہے جو ایک طبعی تقاضا ہے۔ انسانی دماغ