انوارالعلوم (جلد 16) — Page 372
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ہے ، ہم تمہاری کیوں نہ مدد کریں گے جب کہ تم پر حملہ کرنے والے خائن اور کافر ہیں اور تم وہ ہو جو صداقتوں کا اقرار کرتے ہو۔ یاد رکھو! اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو پر حد سے جن سے لوگ جنگ کرتے ہیں اجازت دی گئی ہے کہ وہ بھی حملہ آوروں کا مقابلہ کریں کیونکہ اُن ظلم کیا گیا ہے اور اُن پر نا واجب سختی کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کی مدد پر یقیناً ، زیادہ ظلم کیا قادر ہے ۔ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر حق کے، جن کا صرف اتنا گناہ تھا کہ انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعہ دور نہ کرے تو دنیا میں عبادت خانے ، راہبوں کے رہنے کی جگہیں ، عیسائیوں کے گرجے ، یہودیوں کی جگہیں اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں خدا تعالیٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے سب مٹا دی جائیں ۔ فرماتا ہے ہم نے مذہب کی آزادی کے لئے لڑائی کی اجازت دی اہے ہے گا مگر چونکہ سچے مخلص لوڑے ہوتے ہیں اس لئے اس بات سے نہ گھبرانا کہ تم تھوڑے ہو، اللہ تعالیٰ خودا۔ وڑے ہو، اللہ تعالیٰ خود اپنے مخلص بندوں کی تائید کے لئے تلوار لے کر کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ انہیں ہر میدان میں مظفر ومنصور کرتا ہے اور خدا بڑا ہی قومی اور عزیز ہے ۔ جس طرف خدا ہو جائے گا اُس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور جس کی طرف خدا ہو جائے گا اُس پر کوئی دشمن غلبہ نہیں پاسکے گا۔ دشمنوں پر غالب کرنے والا ایک تیز تر اور کامیاب ہتھیار یہ تو دفاعی جنگ ہے۔ میں نے سوچا کہ اس سامان جنگ سے تو میں دشمن کے فتنہ سے بچ سکتا ہوں ۔ پس یہ ہتھیار ایک ڈھال کی طرح ہوا اِس میں مجھے دوسرے پر حملہ کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے پھر میں دنیا پر غالب کس طرح آؤں گا ؟ کیا اس مینا بازار میں کوئی ایسا ہتھیا ر بھی ہے جو ڈھال کی طرح نہ ہو بلکہ تلوار کی طرح ہو اور جس کی مدد سے مجھے غلبہ عطا ہو؟ تو میں نے دیکھا کہ ایسا ہتھیار بھی موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى اَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا - وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَذِيرًا - فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا - وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَ حِجْرًا مَّحْجُورًا ۵۰ ان آیات میں پہلے پانی کا ذکر ہے جو کلام الہی سے تشبیہہ دینے کے لئے کیا گیا ہے اور فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اُتارتا ہے اور مراد یہ ہے کہ قرآن بھی اسی طرز کا ہے۔