انوارالعلوم (جلد 16) — Page 352
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کروں گا ۔ یہ الفاظ کتنی محبت پر دلالت کرتے ہیں اور کس طرح ان الفاظ سے اُس شفقت کا اظہار ہوتا ہے جو مومن بندے کے ساتھ خدا تعالیٰ کرے گا۔ اعلیٰ درجہ کے لباس (۵) پھر میں نے سوچا کہ : پا کہ دنیوی بازاروں میں تو لباس فروخت ہوا کرتے ہیں آیا ہمارے مینا بازار میں بھی لباس ملتے ہیں یا نہیں ؟ میں نے غور کیا تو اِس بارہ میں بھی یہ تشریح موجود تھی وِلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ - وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ الله یعنی اس کے اندر مؤمنوں کو ایسا لباس دیا جائے گا جو ریشمی ہوگا وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ۔ اور دنیا میں تو لوگ ریشمی لباس پہن کر متکبر ہو جاتے ہیں اور دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تو میرا مقابلہ کر سکتا ہے؟ مگر وہاں ایسا نہیں ہوگا ۔ ہمارے ملک میں تو ایسی بُری عادت ہے کہ ذرا کسی کی تنخواہ زیادہ ہو جائے اور اُس کا غریب بھائی اور رشتہ دار اس سے ملنے کیلئے آئے تو وہ گردن موڑ کر چلا جاتا ہے ۔اب ) تا ہے۔ اب اُس کی گردن آپ ہی نو پ ہی نہیں مڑتی بلکہ اُسے جو تنخواہ مل رہی ہوتی ہے وہ اُس کی گردن کو موڑ دیتی ہے مگر فرماتا ہے وہ حریر جو جنت میں ملے گا عجیب قسم کا ہو گا کہ وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ادھر انسان وہ حریر پہنے گا اور اُدھر اس میں انکسار پیدا ہو جائے گا اور اس ریشم کے پہنتے ہی اُس میں محبت اور پیار اور خلوص کے جذبات پیدا ہو جائیں گے وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ اور دنیا میں تو لوگ ریشم پہن کر خوب اکثر اکڑ کر مال روڈ پر چلتے ہیں ، عورتیں اُن کو دیکھتی ہیں اور وہ عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور اس طرح بداخلاقی کے مرتکب ہوتے ہیں مگر وہ حریر اس قسم کا ہو گا کہ اسے پہن کر مؤمن اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ نے لگ جائیں گے اور اللہ میاں کے دربار میں جانے کی خواہش اُن کے دلوں میں زیادہ زور سے پیدا ہو جائے گی ۔ پھر اس لباس کے علاوہ ایک اور لباس کا بھی پتہ چلتا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ۱۲ تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہوتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا یہ تقویٰ کا لباس بھی اس مینا بازار میں ملتا ہے یا نہیں ؟ اس کے لئے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاتَهُمْ تَقُوهُم " کہ جو لوگ ہدایت پاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو ہدایت میں اور زیادہ بڑھاتا ہے یہاں تک کہ اُن کو تقویٰ عطا کر دیتا ہے ۔ مطلب یہ کہ ہر ایک کو اُس کی ہدایت کے مطابق لباس ملے گا اور جس قدر کسی نے روحانیت میں ترقی کی ہوگی اُسی قدر اس کا لباس زیادہ اعلیٰ ہوگا ۔