انوارالعلوم (جلد 16) — Page 338
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) : ہیں ، مگر ان کے متعلق فرمایا وہ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا کی طرح ہونگے ، دیکھو کیا لطیف تشبیہہ بیان کی گئی ہے۔ دنیا میں موتی کو بے عیب سمجھا جاتا ہے اور کسی کی اعلیٰ درجہ کی خوبی بیان کرنے کے لئے موتی کی ہی مثال پیش کرتے ہیں ۔ پس اس مثال کے لحاظ سے لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا کا مفہوم یہ ہوا کہ اُن میں کسی قسم کا جھوٹ ، فریب ، دغا ، کینہ اور کپٹ نہیں ہوگا ، مگر موتی میں ایک عیب بھی ہے اور وہ یہ کہ اسے چور چُرا کر لے جاتا ہے ، اسی لئے اُسے چُھپا چھپا کر رکھا جاتا ہے مگر فرمایا کہ وہ بیشک اپنی خوبیوں میں موتیوں کی طرح ہونگے مگر وہ اتنے بے عیب ہوں گے کہ تم بیشک انہیں کھلے طور پر پھینک دو ان پر کوئی خراب اثر نہیں ہوگا ۔ دنیا میں غلام ایک دوسرے کا بداثر قبول کر لیتے ہیں اس لئے انہیں بُری صحبت سے بچانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر فرمایا وہ بداثر کو قبول ہی نہیں کرینگے اس لئے ان کو چھپانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو گی بلکہ تم نے ان کو بے پروائی سے بکھیرا ہوا ہو گا اور تمہیں ان کے متعلق کسی قسم کا خوف اور تر ڈ نہیں ہوگا۔ اعلیٰ درجہ کی سواریاں پھر میں نے سوچا کہ اُس مینا بازار میں بڑی محمدہ سواریاں ملتی تھیں کیا یہاں بھی کوئی سواری ملے گی؟ تو میں نے دیکھا کہ اس جگہ بھی سواری کا انتظام تھا چنانچہ لکھا تھا أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۳۴ وہ متقی لوگ جو غلام بن چکے ہیں اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی سواریاں آئیں گی جن پر سوار ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچیں گے، میں نے کہا یہ سواری تو عجیب ہے مینا بازار سے تو لگنے ، موتنے اور گھاس کھانے والا گھوڑا ملتا تھا مگر یہاں مجھے ہدایت کی سواری ملے گی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گی ۔ میں نے سمجھا کہ اگر وہاں گھوڑا ملتا تو وہ لید کرتا اور اس کی صفائی میرے ذمہ ہوتی ، وہ گھاس کھاتا اور اُس کا لانا میرے ذمہ ہوتا ، پھر شاید کبھی منہ زوری کرتا، میں اُسے مشرق کو لے جانا چاہتا اور وہ مجھے مغرب کو لے جاتا اور شاید مجھے گرا بھی دیتا، مگر یہ گھوڑا جو مجھے ملا ہے، یہ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے نہ لگتا ہے نہ موتتا ہے، نہ منہ زوری کرتا ہے اور نہ اپنے سوار کو گراتا ہے بلکہ سیدھا اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے ۔ پھر اُس گھوڑے پر چڑھ کر کوئی خاص عزت نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ ہر شخص جس کے پاس سو پچاس روپے ہوں ، گھوڑا خرید سکتا ہے ، مگر یہ گھوڑ ا خلعت کا گھوڑا ہوگا جو زمین و آسمان کے بادشاہ کی طرف سے بطور اعزاز آئے گا ۔ پس معمولی ٹو پر چڑھنا اور بات ہے اور یہ کہنا کہ بادشاہ کی طرف سے جو گھوڑا آیا ہے اُس پر سوار ہو جائے یہ اور بات ہے ۔