انوارالعلوم (جلد 16) — Page 318
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ہی مسیح نے دوبارہ آنا ہوتا تو اس کا الیاس تو یحییٰ کے رنگ میں ظاہر ہو چکا تھا پھر آسمان پر سے آنے والے کے لئے کسی راستہ صاف کرنے والے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ پس تیسری دفعہ الیاس کے آنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا مسیح پہلے مسیح اسے علیحدہ وجود ہو گا اور اِسی دنیا سے پیدا ہوگا تبھی اس کے لئے ایک اور الیاس پیدا کیا جائے گا تا کہ اس کے راستہ کو صاف کرے۔ اس تیسرے الیاس کا سلام گو ابھی دنیا میں قائم نہیں ہو مگر خدا تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ اس کا سلام بھی قائم ہوگا اور یہ سلام غیر نبی کے لئے جائز ہوتا ہے ! نبی کے لئے جائز ہوتا ہے پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تیسرا الہ را الیاس جب نبی نہیں تو اس کے لئے سلام کا لفظ کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ غیر نبی کے لئے بھی سلام کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت علی کے نام کے ساتھ عَلَيْهِ السَّلَامُ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ پس غیر نبی کے نام کے ساتھ بھی عَلَيْهِ السَّلَامُ کہا جا سکتا ہے اور تیسرے الیاس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ ہے کہ پہلے دو الیاسوں کی طرح اس کے متعلق بھی عَلَيْهِ السَّلَامُ کہا جائے گا۔ مریم اور مسیح کا مقبرہ پھر فرماتا ہے ہم نے ایک اور مقبرہ بھی بنایا ہے چنانچہ فرمایا التی أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخُنَا فِيهَا مِنْ رُّوحِنَا وَجَعَلْنَهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَلَمِينَ لا اُس عورت کو یاد کرو جس نے اپنے تمام قومی کو خدا کے لئے وقف کر دیا ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اُسے اور اس کے بیٹے کو ہمیشہ کے لئے یادگار بنادیا۔ یہ بھی ایک مقبرہ ہے جو خدا تعالیٰ نے بنایا چنانچہ آج بھی حضرت عیسیٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور حضرت مریم صدیقہ عَلَيْهَا السَّلَامُ ہی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم کا مقبرہ اسی طرح حضرت ابرا ابراہیم عَلَيْهِ السَّلَام کے متعلق فرماتا ہے وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَآتَيْنَهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ " ابراہیم بھی ہمارے مخصوص لوگوں میں سے تھا جس کے لئے ہم نے روحانی مقبرہ بنایا اور یہ مقبرہ دو طرح ظاہر ہوا۔ ایک اس طرح کہ جب بھی ابراہیم کا نام لیا جائے گا لوگ عَلَيْهِ السَّلَامُ کہیں گے اور دوسرے اس طرح کہ آئندہ ہم نے نبوت کا اس کی اولا کا اس کی اولاد کے لئے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ذریعہ سے زندہ رہے گی خواہ وہ ذریت جسمانی ہو خواہ روحانی ۔ اس طرح ہم نے اسے دنیا میں بھی اجر دیدیا اور آخرت میں بھی ، کیونکہ وہ ہمارے صالح بندوں میں سے ہے چنانچہ ہمیشہ آپ پر درود بھیجا جاتا ہے اور جب بھی مسلمان کہتے ہیں اللهُمَّ صَلِّ