انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 312

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے مطابق سلوک بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ تو معلوم ہو گیا کہ ہر شخص کے عمل محفوظ رکھے جاتے ہیں مگر کیا اس شخص کا مقبرہ بھی بنایا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو قرآن کریم سے اس کے مطابق ہر ہی ہمیں اِس کا یہ جواب ملتا ہے وَإِنَّ كُلَّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - کو کسی شخص کو بھی اُس کے اعمال کا اب تک پورا بدلہ نہیں ملا لیکن ایک دن ایسا آئے گا کہ ہر ایک شخص کو اُس کے اعمال کا اللہ تعالیٰ پورا پورا بدلہ دیگا کیونکہ وہ تمہارے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ بعض دفعہ لوگ کسی معمولی ابتلاء پر ہی کہہ دیتے ہیں کہ یہ شامت اعمال کا نتیجہ ہے اور اِس طرح وہ اِس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ جو سزا انہیں ملتی تھی وہ مل گئی ہے اسی طرح مؤمنوں کو دنیا میں جو ترقی حاصل ہوتی ہے اُس کو دیکھ کر بھی خیال کیا جا سکتا ہے کہ شاید مؤمنوں کو جو انعامات ملنے تھے وہ مل گئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لگا ہر گز نہیں، ابھی تک نہ مؤمنوں کو انعامات ملے ہیں نہ کافروں کو سزا ملی ہے ۔ لَمَّا کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب تک یہ فعل نہیں ہوا۔ اس آیت میں لَمَّا کا فعل حذف ہے جو يُوَفَّوا أَعْمَالَهُمْ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ابھی تک انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ نہیں ملا مگر ایک دن ضرور تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے گا ۔ پس وہ تمام کام جو تم راتوں کو کرتے ہو، لوگوں سے چُھپ کر کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ لوگوں پر ظاہر نہ ہوں ، اسی طرح وہ تمام کام جو تم لوگوں کے سامنے کرتے ہو، ان تمام اعمال کو اگر تو بہ قبول نہ ہوئی تو خدا تعالیٰ اُس دن ظاہر کر دے گا اور جس رنگ کے اعمال ہوں گے اُسی کے مطابق مقبرہ دیا جائے گا۔ اسی طرح سورۃ نبأ میں فرماتا ہے کہ جَزَاءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا قیامت کے دن جو بدلہ ملے گا وہ تیرے رب کی طرف سے حساب کے مطابق ہو گا یعنی جس طرح بنیا پیسہ لیتا ہے اور سودا دے دیتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عطاء بھی اُس دن حسابی ہوگی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اعمال کے مطابق بدلہ ہو گا اور جو شخص جس درجہ کا ہوگا اسی درجہ میں رہے گا یہ نہیں کہ اول کو دوم اور دوم کو اوّل کر دیا جائے گا۔