انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 261

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور - اب میں ان میں سے ہر ایک امر کے متعلق تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہوں ۔ ریکروٹنگ میں مدد صرف اس لئے ہی مفید نہیں کہ اس سے انگریزوں کی کامیابی میں مدد ملتی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ اس سے قوم میں جنگی سپرٹ پیدا ہوتی ہے اور جنگی فنون سے واقفیت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے لئے دوسری بیرونی حکومتوں کے مقابل پر انگریزوں کی حکومت کئی لحاظ سے اچھی ہے اور اس لئے ہندوستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ انہیں فتح حاصل ہو۔ جو قوم کسی ملک پر دیر سے حکومت کر رہی ہو اس کی طاقت بہت حد تک زائل ہو چکی ہوتی ہے اور اُس کا رعب بھی مٹ چکا ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے سکولوں میں تعلیم پائی ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ سکول میں جو ماسٹر نیا نیا آئے اُس کا رُعب زیادہ ہوتا ہے۔ پُرانے ماسٹروں کا اتنا رعب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح پُرانی حکومت کا رُعب کم ہو جاتا ہے اور جو حکومت نئی نئی ہو اُس کا رعب زیادہ ہوتا ہے ۔ نئی حکومت کا مقابلہ اتنی دلیری سے نہیں کیا جاسکتا جتنا پرانی کا۔ گاندھی جی جس طرح انگریزوں سے روٹھ جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میں کھانا پینا ترک کرتا ہوں تو انگریز اُنہیں منانے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح جرمنوں کے ماتحت یہ ممکن نہیں ۔ انگریز گاندھی جی کو خوب سمجھتے ہیں اور گاندھی جی انگریزوں کو خوب سمجھتے ہیں ۔ ایک بڑے افسر سے جو بعد میں گورنر بھی ہو گئے تھے میں نے ایک دفعہ کہا کہ گورنمنٹ کی فلاں بات کا کانگرس کو علم ہو چکا ہے یہ آپ لوگوں کا کیسا انتظام ہے کہ سرکاری راز تک کانگرسیوں کو معلوم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا اسی طرح ہوتا ہے ان کے راز ہم کو مل جاتے ہیں اور ہمارے ان کو پتہ لگ جاتے ہیں ۔ یہی گاندھی جی اور حکومت کا معاملہ ہے دونوں ایک دوسرے کے دل کو پڑھنا خوب جانتے ہیں ۔ لیکن اگر انگریزوں کی بجائے یہاں کوئی اور حکومت ہو تو وہ نہ گاندھی جی کے دل کو پڑھ سکے اور نہ گاندھی جی اُس کے دل کو پڑھ سکیں ۔ جس قوم نے تین سو سال تک دنیا سے روپیہ کمایا ہے اُس میں وہ بہادری اور جرات نہیں ہو سکتی جتنی اُس قوم میں ہوگی جو دنیا میں عیش و عشرت کرنے کی نئی نئی امیدیں لے کر میدان میں نکلی ہو ۔ جب تک وہ بھی سو ، دو سو سال تک دنیا سے کمائی نہ کر لے اُس کی مجرات میں کمی نہیں آ سکتی ۔ انگریز تو اب سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو لینا تھا لے لیا لیکن کوئی نئی قوم جب تک کم سے کم سو دو سو سال تک مزے نہ لوٹ لے اُسے چین نہیں آ سکتا۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً اَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَ كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ )