انوارالعلوم (جلد 16) — Page 192
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ اور آپ کے نزدیک آپ کا دعوئی محدثیت کا تھا۔ پس اس فقرہ کو دوسرے الفاظ میں آپ کے عقیدہ کے رو سے یوں ؟ یوں بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ ” محدث کے لئے شارع ہونا شرط نہیں، یعنی ضروری نہیں کہ ہر محدث شارع ہو۔ بعض محدث بغیر نبی ہونے کے شارع ہو سکتے ہیں لیکن بعض محدث ایسے بھی ہوتے ہیں جو شارع نہیں ہوتے کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ بعض غیر نبی بھی شارع گزرے ہیں ؟ اگر آپ کا یہ عقیدہ نہیں تو اس جگہ نبی کی جگہ پر محدث کا لفظ کس طرح رکھا جائے؟ پھر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ سے کیا گیا۔ نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم اور پھر اس پر اعتراض کیا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جھوٹ نہیں لکھا تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام آتا ہے مگر یہ استدلال بھی آپ کا غلط ہے کیونکہ محدثیت کے دعوی کی نسبت آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور یہ بالکل سچ ہے کہ جس دعوی کو آپ پ محد ثیت قرار دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہی حکم سے کیا گیا تھا اس میں جھوٹ کا کیا ذکر ہے؟ یہ تو آپ نے نہیں فرمایا کہ محدثیت کی تعریف آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کی ہے ۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ ہر نبی محدث بھی ہوتا ہے۔ ۸۸ مواہب الرحمٰن کا حوالہ کہ اللہ تعالی اولیاء اس کے بعد جناب مولوی صاحب مواہب الرحمن کا ایک حوالہ پیش فرماتے ہیں۔ اور اس سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر ۱۹۰۱ء سے کلام کرتا اور انکو نبیوں کا رنگ دیتا ہے میں اللہ تعالی نے حضرت یح موعود علیہ السلام کو یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں محدث نہیں تو پھر ۱۹۰۳ ء میں آپ نے کیوں لکھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور اُن کو نبیوں کا رنگ دیا جاتا ہے اور وہ در حقیقت نبی نہیں ہوتے ۔ پھر بڑے زور سے اعتراض فرماتے ہیں کہ :- دو میاں صاحب کے سامنے یہ تحریر حضرت صاحب کی بیسیوں دفعہ پیش کی گئی مگر اس کا جواب وہ کبھی نہیں دیتے اور دیں کس طرح ، اس کا جواب کوئی ہے ہی نہیں ۔ اسی لئے وہ مباحثہ کے میدان میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں ۔۱۹