انوارالعلوم (جلد 16) — Page 182
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ مولوی صاحب کی لا علمی کی دلیل ہے کیونکہ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجدد نہ تھے۔ ہم تو بار ہا مخالفوں کے سامنے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب علیہ السلام صادق نہیں تو بتاؤ کہ چودھویں صدی کا مجدد کہاں ہے؟ پس یہ مولوی صاحب کی ہمارے عقیدہ سے لا علمی کا ثبوت ہے کہ ان کے خیال میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجد د نہیں سمجھتے۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسلمان بھی سمجھتے ہیں ، مؤمن بھی سمجھتے ہیں ، صالح بھی سمجھتے ہیں ، شہید بھی سمجھتے ہیں کہ آپ نے اسلام کی خدمت میں ہر لحظہ اپنی جان قربان کی ، صدیق بھی سمجھتے ہیں، محدث بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا ، مجد د بھی سمجھتے ہیں کہ آپ نے زمانہ کے فسادات کو ڈور کیا اور نبی بھی سمجھتے ہیں ۔ جس طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اول المؤمنین سمجھتے ہیں، صالح سمجھتے ہیں، شہید سمجھتے ہیں ، صدیق سمجھتے ہیں، محدث سمجھتے ہیں، مجدد اعظم سمجھتے ہیں ۔ اور نبی اور رسول بھی سمجھتے ہیں اور سید الانبیاء بھی سمجھتے ہیں اور خاتم النبیین بھی سمجھتے ہیں ۔ کیا مولوی صاحب کا یہ عقیدہ نہیں اور ان کے خیال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اس کے کہ محدث ہوتے یعنی ان سے کلامِ الہی ہوتا اور بغیر اس کے کہ وہ مجدّد ہوتے یعنی مفاسد زمانہ کی اصلاح کرتے نبی اور رسول ہو گئے تھے ۔ اگر آپ محدث نہ تھے یعنی خدا تعالیٰ آپ سے کلام نہیں کرتا تھا ( نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ تِلْكَ الْخُرَافَاتِ ) اور اگر آپ مجدد نہ تھے یعنی دنیا میں کوئی نیا علم آپ نہیں لائے تھے ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ) تو پھر فرمائیے کہ آپ صاحب شریعت جلیلہ و فائقہ نبی کیونکر ہو گئے؟ مجھے تو ڈر ہے کہ آپ اگر اسی قسم کے دلائل پر اپنی تحریرات کی بنیاد رکھنے لگے تو جن نبیوں کے متعلق صِدِّيقًا نَّبِيًّا يا نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ " کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں ان کے متعلق بھی اقبالی ڈگریاں دینے لگ جائیں گے کہ بس جب مان لیا کہ صالح اور صدیق تھے تو پھر نبی کس طرح ہو گئے ۔ جناب مولوی صاحب ! ہمارا اور آپ کا یہ اختلاف نہیں کہ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام محدث یا مجدد نہ تھے بلکہ یہ اختلاف ہے کہ آپ کے نزدیک وہ صرف محدث اور مجدد تھے مگر ہمارے نزدیک وہ باقی سب انبیاء کی طرح محدث اور مجدد ہونے کے علاوہ نبی کے مقام پر بھی تھے۔ پس آپ نے میرے اعتراف کو پیش نہیں کیا بلکہ اپنی غلط فہمی کا اعتراف فرمایا ہے ۔ فائز تھے۔ پھر اس اعتراف کے ذکر کے دوران میں جناب مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس حوالہ کو بھی پیش کیا ہے کہ ” نبوت کا دعوی نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو