انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 174

انوار العلوم جلد ۱۶ ہوں اسے نبی کہتے ہیں ۔“، ۴۹ پھر فرماتے ہیں :- وو اللہ تعالی ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ ۵۰۰، نبی اُس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے ۔“‘ھے پھر فرماتے ہیں :- ” میرے نزدیک نبی اُسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی ۵۱۰، بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔“ اھ نبی کے لئے شریعت لانا یا صاحب شریعت کا متبع نہ ہونا ضروری نہیں پھر فرماتے ہیں :- دو ” یہ تمام بد قسمتی دھوکا سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“‘۵۲ پھر فرماتے ہیں :- دو نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امورِ غیبیہ کھلتے ہیں ۔‘، ۵۳ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو کثرت مذکورہ بالا عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں نبی کی تعریف سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی خدا تعالٰی کی اصطلاح میں، قرآن کریم کی اصطلاح میں، اسلام کی اصطلاح میں، انبیائے سابقین کی اصطلاح میں لغت کے اصطلاح میں اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت صرف یہ ہے کہ کسی کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اور جب یہ امر متحقق ہو گیا تو ماننا پڑے گا کہ حدیث میں جو لفظ نبی کا آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے۔ اسے اگر آپ نے کبھی بھی استعارہ قرار دیا ہے تو یہ استعارہ کا لفظ عام عام مسلمانوں کی تعریف نبوت کو مد نظر رکھ کر ہے ورنہ مذکورہ بالا ہستیوں کی تعریف کے مطابق نبی کا لفظ حدیث میں بطور استعارہ استعمال نہیں ہوا بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ کیونکہ اگر مذکورہ بالا ہستیوں کی تعریف کے مطابق حدیث مسلم میں اس لفظ کو