انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 162

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ مِنَ الْأَنْبَاءِ فَأَكْثَرُهُ اسْتِعَارَاتٌ وَ مَجَازَاتٌ مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ ۳۲ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں جو د مستق وغیرہ کا ذکر آتا ہے اس کا اکثر حصہ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہے ۔ اِس حوالہ سے ثابت ہے کہ دمشقی حدیث کے اکثر حصہ کو آپ استعارہ اور مجاز قرار دیتے ہیں ۔ نہ کہ فی الواقعہ اس کے ہر ہر لفظ کو۔ جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس حدیث پر ایک اور اعتراض بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہی حدیث ترمذی نے بھی روایت کی ہے اور اس میں نبی اللہ کے الفاظ نہیں ۔ ”جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ کا لفظ کسی راوی کا ذاتی تصرف ہے ۔“‘۳۳ حضرت مولوی صاحب نے بات تو خوب ڈور کی نکالی ہے مگر افسوس کہ جہاں وہ مجھ پر الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور احادیث کو غور سے نہ دیکھنے کا لگایا کرتے ہیں وہاں وہ خود زیادہ احتیاط سے کام نہیں لیتے ۔ مولوی صاحب اس استدلال کو پیش کرنے سے پہلے یہ تو دیکھ لیتے کہ مسلم کی حدیث اور ترندی کی حدیث کے راوی کون کون ہیں؟ مسلم میں میں یہ حدیث دو سلسلوں سے مروی ہے۔ ایک سلسلہ ابو خیثمہ سے شروع ہوتا ہے اور ایک محمد بن مہران سے ۔ یہ دونوں آگے ولید بن مسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ گویا صرف آخری راوی الگ ہیں اوپر کے راوی ایک ہی ہیں ۔ ترمذی میں یہ روایت علی بن حجر سے مروی ہے مگر وہ آگے ولید بن مسلم اور عبداللہ بن عبدالرحمن بن یزید سے روایت کرتے ہیں گو تر مذی کے راوی بھی وہی ہیں صرف آخری راوی میں اختلاف ہے ۔ اس صورت میں اگر راوی کا ذاتی تصرف ہو سکتا ہے ۔ ۔ تو آخری راویوں میں سے سے کسی کسی کا کا ہو ہو سکتا ہے کیونکہ اوپر کے راوی مسلم کے بھی وہی ہیں اور ترمذی کے بھی وہی ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر لفظوں میں فرق پڑا ہے تو کس روایت میں پڑا ہے۔ مسلم کی روایت میں یا ترمذی کی روایت میں ۔ تو اول تو ترمذی نے خود لکھا ہے کہ ” دَخَلَ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الْآخَرِ ہے یعنی میرے پاس روایہ پاس س روایت کرنے والے راوی کو حدیث پوری طرح محفوظ نہیں رہی بلکہ اس نے جن دو آدمیوں سے حدیث سنی ہے ان کی روایت کو اس نے آپس میں ملا دیا ہے۔ دوم ایک زبردست ثبوت اس امر کا کہ مسلم کی حدیث کے لفظ محفوظ ہیں اور جو غلطی ہوئی ہے ترندی سے ہوئی یہ ہے کہ یہ حدیث علاوہ مسلم اور ترمذی کے ابن ماجہ میں بھی آئی ہے اور اس میں بھی یہ روایت مسلم اور ترمذی کی طرح عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے