انوارالعلوم (جلد 16) — Page 155
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ جنہوں نے مولوی صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ مولوی صاحب کے رفقاء میری کتب کا زیادہ مطالعہ کرتے ہیں یا میرے مرید ان کی کتب کا زیادہ مطالعہ کرتے ہیں؟ مگر مولوی صاحب نے ان تینوں تجویزوں میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا۔ نہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان تجاویز میں میں نے کونسی چالاکی سے کام لیا ہے اور کس طرح اپنے حق کو زیادہ محفوظ کر لیا ہے اور ان کے حق کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر افسوس سخت افسوس ہے کہ وہ نا واجب اور غیر منصفانہ طور پر ایک غلط اعتراض کو دہراتے چلے جاتے ہیں اور فیصلہ کی طرف نہیں آتے ۔ اس اُمت میں مجدّد دہی آئیں گے میرے مضمون میں سے مولوی صاحِ میں سے مولوی صاحب نے سب سے پہلی بات قابل جواب یہ چینی ہے کہ ”بیشک آپ نے فرمایا ہے کہ میری اُمت میں مجددین آئیں گے مگر یہ بھی تو فرمایا ہے کہ نبی بھی ہوگا ۔ اور اس کی تشریح آگے چل کر یوں فرماتے ہیں کہ ” جناب میاں صاحب اپنے خلاف خود ڈگری دے رہے ہیں کسی رے کو حکم بنانے کی ضرورت نہیں ۔ اعتراف اول کے رو سے میاں صاحب کا مسلمہ مذہب کہ اِس اُمت میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے باطل ہو گیا کیونکہ آپ نے یہاں یہ تسلیم کر لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اِس اُمت میں مجدّدین ہی آئیں گے۔ ہاں ایک اور دوسرے صرف ایک نبی ہوگا ۔“ دو 66 مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جناب مولوی صاحب کی حوالوں میں ادل بدل کرنے کی عادت ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ اس عادت کو وہ بالکل ترک نہیں کر سکے۔ میرا فقرہ نقل فرما کر جس کے یہ الفاظ ہیں کہ بیشک آپ نے فرمایا کہ میری اُمت میں مجددین آئیں گے مگر یہ بھی تو فرمایا کہ نبی بھی ہوگا ۔ آپ میری طرف یہ مضمون منسوب فرماتے ہیں ۔ کہ اس اُمت میں مجددین ہی آئیں گے اور پھر یہ کہ ہاں ایک اور صرف ایک نبی ہوگا ۔ حالانکہ نشان کردہ موٹے حروف نہ میرے فقرہ میں ہیں اور نہ ان سے یہ یہ مضمون نکلتا ہے ۔ نہ میں نے یہ لکھا ہے کہ مجددین ہی آئیں گے۔ اور نہ یہ کہ ایک اور صرف ایک نبی ہوگا ۔ پس یہ درست نہیں کہ میں نے اپنے خلاف خود ڈگری دیدی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ مولوی صاحب نے اپنے خلاف خود ڈگری دیدی ہے اور اس بارہ میں مجھے کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں اور اگر میں کچھ لکھوں گا تو جناب مولوی صاحب کو شکایت ہوگی کہ ہمیں بُرا کہا جاتا ہے ۔مولوی صاحب میرے اوپر کے فقرہ سے یہ عجیب استدلال فرماتے ہیں کہ اعترافِ اول کے رو سے میاں صاحب کا مسلمہ مذہب کہ اِس اُمت میں نبوت کا