انوارالعلوم (جلد 16) — Page 152
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ تو رات کا تھا۔ آپ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! یہ تو رات ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور حضرت عمرؓ نے اس کو پڑھنا شروع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہورہا تھا اس پر حضرت ابو بکر نے کہا۔ رونے والیاں تم پر روئیں ۔ عمر ! دیکھتے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منہ اُٹھا کر دیکھا اور کے چہرے سے کیا ظاہر ہوا ہے ۔ اس پر حضرت عمرؓ نے منہ اُٹھا کرد۔ کہا کہ میں خدا اور اُس کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں ۔ اب کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ تھا کہ حضرت عمرؓ اس حق کو دیکھ کر نَعُوذُ بِاللهِ اسلام سے بیزار ہو جاویں گے؟ کیا اس کی صرف یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت عمرؓ مذہبی مباحثات کرنے والے آدمی نہ تھے اور اس مرتبہ پر پہنچ چکے تھے کہ اب مزید تحقیق کی ان کو ضرورت نہ تھی پس ان کا یہ فعل بے ضرورت تھا اور خطرہ تھا کہ ان کو دیکھ کر بعض اپنے مذہب کی پوری واقفیت نہ رکھنے والے بھی اس شغل میں پڑ جاویں اور ان باتوں کی تصدیق کر دیں جو باطل ہیں اور ان کی تکذیب کر دیں جو حق ہیں ۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ اسی وجہ سے روکا ہو کہ آپ عام مجلس میں بیٹھ کر پڑھتے تھے اور اس سے خطرہ ہوا کہ ان کو دوسرے لوگ دیکھ کر ان کی اتباع نہ کریں الگ پڑھتے تو شاید آپ کو نہ روکا جاتا۔ پس کیا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو بھی نَعُوذُ بِاللهِ بُزدلانہ فعل قرار دیں گے۔ عِياذاً بالله مولوی صاحب ! تو بہ کریں کہ آپ ہمیشہ میری مخالفت میں خدا تعالیٰ کے برگزیدوں کی ہتک کرتے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود کا ایک حکم بھی اس کی تائید کرتا ہے چنانچہ مباحثه مابین مولوی عبد اللہ چکڑالوی و مولوی محمد حسین پر ریویو لکھتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں ۔ دو ہر ایک جو ہماری جماعت میں ہے اسے یہی چاہئے کہ وہ عبداللہ چکڑالوی کے عقیدوں سے جو حدیثوں کی نسبت وہ رکھتا ہے بہ دل متنفر اور بیزار ہو۔ اور ایسے لوگوں کی صحبت سے حتی الوسع نفرت رکھیں ۔“ 66 اس جگہ آپ نے چکڑالویوں سے ملنے جلنے سے حتی الوسع بچنے کی