انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 136

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت ۔ نہیں کیونکہ اس عنوان کا مطلب تو یہ ہے اللہ تعالیٰ نے بھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اور ایک زمانہ میں خود جناب مولوی محمد علی صاحب نے بھی مسیح موعود کو نبی ہی قرار دیا ہے۔ اگر مولوی صاحب واقعہ میں اس رفاقت پر فخر کرتے ہیں تو اب بھی اعلان کر دیں کہ میں مسیح موعود کو نبی سمجھتا ہوں لیکن اگر اب وہ آپ کو نبی نہیں سمجھتے تو رفاقت کہاں رہی اور فخر کس بات کا ۔ وہ تو اُس شخص کو جو دعوی نبوت کرے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی غیر تشریعی کلمہ گو اسلامی شریعت کے محافظ نبی کی آمد کا اقرار کرے کافر، دشمن اسلام اور خاتم النبین کا منکر قرار دیتے ہیں۔ اور اگر اس عنوان کا مضمون درست ہے تو وہ تو (خدا تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے اللہ تعالیٰ جَلَّ جَلاله ، آنحضرت صلی اللہ علیہ فِدَاهُ نَفْسِی وَرُوحِی، بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام أَيَّدَهُ اللهُ بِنَصْرِہ اور خود ۱۹۰۸ء کے پہلے کے مولوی محمد علی صاحب کو خطرناک سے خطرناک الفاظ سے یاد کرنے والے ٹھہرتے ہیں ان تینوں کی رفاقت تو ان مولوی محمد علی صاحب کو حاصل ہے جو ۱۹۰۸ء سے پہلے رسالہ ریویو میں انہی کے مطابق خیال ظاہر کیا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی اور رسول کہہ کر پکارا کرتے تھے مگر اس مضمون کے مولوی محمد علی صاحب تو وہ ہیں جو اُس خدا کی معیت کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی کہتا ہے ، اس خاتم النبیین کی معیت کو جو مسیح موعود کو نبی کہتا ہے ، اُس امام وقت کی معیت کو جو مسیح موعود کو نبی کہتا ہے بلکہ اس مولوی محمد علی صاحب کی معیت کو جو ۱۹۰۸ء سے پہلے ریویو آف ریلیجنز کا ایڈیٹر تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی اور رسول لکھتا تھا ایک قابلِ نفرت اور حقارت بات تصور فرماتے ہیں حتیٰ کہ ان کے اس فعل کو دیکھ کر اس مادی دنیا سے ڈور اور روحانی عالم کی فضاؤں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک پُرانی رفاقت کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ کے غیر مبائعین کو پیغامی کیوں لکھا جناب مولوی صاحب آگے چل کر شکایت فرماتے ہیں کہ میں نے غیر مبائعین کو پیغامی کیوں لکھا ہے اور اس دو کا نام ” قادیانی خوش کلامی رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ موزوں بھی یہی ہے کہ جس اسلام کے ہم پیرو اور مبلغ کہلاتے ہیں اس کی تعلیم کا کوئی نمونہ بھی دنیا کو دکھایا جائے ہے پھر فرماتے ہیں کہ میاں صاحب کی اولوالعزمی ہے کہ باوجود لَا تَنَابَزُوا بِالالقاب کی طرف توجہ دلانے کے وہ