انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 113

انوار العلوم جلد ۱۶ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن مصائب کو برداشت کروں گا اور کسی موقع پر بھی اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹاؤں گا۔ پس یاد رکھو وہ کامیابیاں اور ترقیاں جو آنے والی ہیں ان کے لئے مصائب کی بھٹی میں سے گزرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد کامیابیاں بھی آئیں گی خواہ وہ تمہاری زندگی میں آئیں یا تمہاری موت کے بعد ۔ شریف آدمی یہ نہیں دیکھا کرتا کہ قربانی کا پھل اُسے کھانے کو ملتا ہے یا نہیں بلکہ وہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قربانی کا پھل چکھنے کا اسے موقع بھی نہیں ملتا کہ وہ وفات پا کر اپنے رب کے حضور پہنچ جاتا ہے۔ تم اگر غور کرو تو تم میں سے اچھے کھاتے پیتے تو وہی نکلیں گے جن کے باپ دادا نے خود نہیں کھایا اور کنگال وہی نکلیں گے جن کے باپ دادا نے جو کچھ کمایا تھا وہ کھا لیا۔ آخر یہ بڑے بڑے زمیندار جو آج تمہیں نظر آ رہے ۔ آ رہے ہیں کیسے بن گئے؟ یہ بڑے زمیندار اس ؟ ے زمیندار اسی طرح بنے کہ ان کے باپ دادوں ۔ تنگی سے گزارہ کیا اور ایک ایک پیسہ بچا کر ایک کنال یہاں سے اور ایک کنال وہاں سے خریدی ۔ پھر رفتہ رفتہ ایک گھماؤں زمین ہو گئی ۔ اور پھر ایک سے دو اور دو سے چار اور چار - اور چار سے دس اور دس سے پندرہ اور پندرہ سے ہیں گھماؤں زمین کے وہ مالک بن گئے اور جب وہ مرے تو ان کی اولاد نے ان کی زمینوں سے فائدہ اُٹھایا۔ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اولا د نا خلف ہوتی ہے وہ باپ دادا کی جائداد کو اُڑا دیتی اور آہستہ آہستہ مقروض ہو جاتی ہے اور وہی زمین جوان کے باپ دادا نے بڑی مشکلات سے اکٹھی کی ہوتی ہے بنیوں کے قبضے میں چلی جاتی ہے اور جب آگے ان کی اولاد آتی ہے تو وہ ٹھوکوں مرنے لگتی ہے اور وہ ان بنیوں کو گالیاں دیتی ہے جو ان کی زمینوں پر قبضہ کئے نے ہوتے ہیں حالانکہ انہیں گالیاں اپنے ماں باپ کو دینی چاہئیں جو اپنی اولاد کا حصہ کھا گئے ۔ تو باپ دادوں کی محنت ہمیشہ اولاد کے کام آتی ہے اور اگر کوئی شخص محنت نہیں کرتا تو اس کی اولا د بھی اس محنت کے فوائد سے محروم رہتی ہے۔ تم غریب سہی ، تم کنگال سہی لیکن اگر تم میں سے کسی کی ایک کنال زمین بھی ہے تو جب تم اس زمین پر کھڑے ہوتے ہو تو یوں سمجھتے ہو کہ یہاں سے امریکہ تک سب جگہ تمہاری ہی حکومت ہے اور تمہارا دل اتنا بہادر ہوتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ ہمیں کسی کی کیا پرواہ ہے۔ اور اگر تمہاری ایک گھماؤں زمین ہوتی ہے یا دس گھماؤں زمین ہوتی ہے یا ہیں گھماؤں زمین ہوتی ہے تو پھر تو تمہاری یہ حالت ہوتی ہے کہ تم ایک طرف کھڑے ہو کر کہتے ہو کہ ہماری ایک پیلی اِس سرے پر ہے اور ایک پیلی اُس سرے پر ۔ خواہ درمیان میں دس زمینداروں کی اور بھی زمینیں ہوں مگر ایسی حالت میں جب تم اپنی زمین پر تکبر کے ساتھ کھڑے