انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 97

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) پتھروں کو توڑ لیا ؟ عربی زبان میں ب کے معنے علمی کے بھی ہوتے ہیں اور کبھی قلب نسبت بھی ہو جاتی ہے جیسے کہتے ہیں پر نالہ چلتا ہے تو تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيلٍ کے معنے یہی ہیں کہ وہ ان کی بوٹیاں پتھروں پر مار مار کر کھاتے تھے اور یہی چیلوں وغیرہ کا طریق ہے وہ بوٹی کو پتھر پر مارتی اور پھر کھاتی ہیں ۔ تو وہ جو کعبہ کے پتھر توڑنے چلا تھا اس کی بوٹیاں جانوروں نے پتھر پر مار مار کر کھا ئیں ۔ مسیحی اس روحانی قلعہ کی طرف نہ بڑھ سکے جب میں نے یہ نظارہ دیکھا تو میں نے کہا کون کہہ سکتا ہے کہ اس قلعہ پر حملہ نہیں ہوا ۔ حملہ ہوا اور اس میں یہ قلعہ مضبوطی سے قائم رہا۔ اس کے بعد اور زمانہ گزرا ۔ ایک دفعہ مسیحیوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور میں نے دیکھا کہ وہ باوجود اس غصہ کے کہ مسلمانوں نے اُن کے معابد پر قبضہ کیا ہے اس قلعہ کی طرف نہ بڑھ سکے ۔ ہلا کو خاں بھی اس قلعہ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکا اور ایک دفعہ ہلاکو خاں نے بغداد اور اسلامی ممالک کو تباہ کیا مگر اس قلعہ کو وہ بھی کوئی گزند نہ پہنچا سکا۔ پھر جنگ عظیم کا وقت آیا اور ترک جن کے قبضہ میں یہ قلعہ تھا وہ فاتح اقوام کے خلاف کھڑے ہو گئے ۔ میں نے کہا اب اس قلعہ کے لئے خطرہ ہے مگر تب بھی یہ محفوظ رہا اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص سامان پیدا کر دیئے پھر یہ نئی جنگ شروع ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اب کے پھر دونوں فریق اس کی حفاظت کا اعلان کر رہے تھے ۔ غرض ہزاروں سال کی تاریخ میں اس عجیب و غریب قلعہ کو دنیا کا مقابلہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا اور ہمیشہ مجھے یہ محفوظ و مصون ہی نظر آیا۔ یہ نہیں کہ اس کے کبھی مغلوب ہونے کی خبر ہو۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ ایک وقت یہ مغلوب ہوگا اور کعبہ گرایا جائے گا مگر ہو ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ہے کہ یہ بات قیامت کی علامت ہوگا ہوگی ۔ 2 اب اس کے یہ معنی بھی سکتے ہیں کہ عارضی طور پر دشمن اس پر قبضہ کرے گا مگر اس پر قیامت آجائے گی اور وہ فتنہ اور خونریزی ہوگی کہ الامان اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ حقیقی قیامت کے وقت جب اس کی ضرورت نہ رہے گی ، اس قلعہ کا مالک اسے گرنے دے گا۔ اس عظیم الشان قلعہ کی حفاظت کیلئے ایک اور چھوٹے قلعہ کی تعمیر اب اس زمانہ میں کہ اس قلعہ