انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 90

انوار العلوم جلد ۱۶ کھلے راستے اور وہ بھی نا ہموار اس کے چاروں طرف موجود ہیں ۔ سیر روحانی (۲) اس قلعہ کے گرد کوئی جنگی چوکیاں نہیں (۹) نویں بات یہ ہے کہ قلعہ کے گردا گرد کے گرد کوئی ہیں۔ سے محفوظ کیا جاتا ہے تا کہ قلعہ سے دور دشمن کے حملہ کو روکا جا سکے مگر یہ قلعہ عجیب ہے کہ اس کے گرد کئی کئی میل کے دائرہ میں اسلحہ لیکر پھرنے سے روک دیا گیا ہے اور حکم دیدیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کے ارد گرد چار چار پانچ پانچ میل تک کوئی ہتھیار لے کر نہ چلے ۔ اس قلعہ میں رہنے والوں کو شکار تک کی ممانعت (۱۰) دسویں قلعہ کے اندر رہنے والوں کو جنگجو بنایا جاتا ہے مگر اس کے اندر رہنے والوں کو حکم ہے کہ کوئی شکار نہ ماریں سوائے سانپ ، بچھو، چیل اور چوہے کے جن کا مارنا ضرورتاً ہوتا ہے نہ کہ جنگجوئی پیدا کرنے کے لئے ۔ دشمن کے حملہ کو روکنے کیلئے تو پوں اور منجنیقوں کی (1) گیارھویں بات میں نے یہ بتائی تھی کہ قلعہ کے اندر حملہ نے کو روکنے لئے باہر کی بجائے نمازوں اور دعاؤں سے کام لینے کا ارشاد طرف دور کر کے ملے یا نہیں لگ منه یا تو پیں رکھی ہوتی ہیں مگر اس قلعہ میں مشابہ اور امن کا ذریعہ یہ بتایا ہے کہ فَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ ابْراهِيمَ مُصَلَّى یعنی جب دشمن دشمن حملہ کرے تو مشابہ اور امن کے قیام کے لئے دشمن کی طرف پیٹھ کر کے اور کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ ۔ غرض قلعوں کو مضبوط بنانے یا دیر تک محاصروں کی برداشت کر سکنے کے لئے جس قدر سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ صرف یہ کہ اس میں پائے نہیں جاتے بلکہ اکثر امور میں ان کے برعکس حالات پائے جاتے ہیں جو قلعوں کو اُجاڑنے کا موجب ہوتے ہیں مثلاً بے پانی ، بے غذا ، نہروں سے دور ، جنگلوں سے پرے، فصیلوں اور چوکیوں کے بغیر کوئی قلعہ قلعہ نہیں کہلا سکتا مگر یہ قلعہ ایسا تھا کہ اس میں مجھے ان سامانوں میں سے کوئی سامان بھی دکھائی نہ دیا حتی کہ اس قلعہ کے ارد گر د اسلحہ لے کر پھرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ یہ قلعہ کب بنایا گیا ؟ اب میں نے سوچا کہ یہ قلعہ ہے کب کا ؟ تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے کیونکہ خود حضرت کو الہام ہوا کہ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ اس پُرانے گھر کا لوگ آ کر طواف کیا کریں