انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 87

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) علاقہ ایسا ہو کہ اُس میں خوراک کے ذخائر کافی ہوں اور کافی مقدار میں غلہ پیدا ہو سکے تا محصور ہونے کی صورت میں فوج خوراک کے ذخائر جمع کر سکے ۔ (۴) چوتھے قلعہ بالعموم ایسی جگہ بنایا جاتا ہے جس کے ارد گرد یا جس کے پاس جنگل ہوں جہاں سے ایندھن کافی جمع ہو سکے اور دشمن پر حملہ کرنے میں سہولت ہو چنانچہ گوریلا وار یا جنگ چپاول جنگلوں میں بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے اسی لئے عام طور پر قلعے جنگلوں کے قریب بنائے جاتے ہیں تاکہ تھوڑی فوج بھی بڑے غنیموں کو دق کر سکے ۔ (۵) پانچویں اگر پہاڑی علاقہ ہو تو قلعہ ہمیشہ اونچی جگہ پر بنایا جاتا ہے تا کہ سب طرف نگاہ پڑ سکے اور دشمن تو حملہ نہ کر سکے مگر خود آسانی سے حملہ کیا جا سکے ۔ (۶) چھٹے قلعہ کی تعمیر نہایت اعلیٰ درجہ کے چونا اور پتھروں سے کی جاتی ہے تا کہ اگر دشمن اس پر گولے برسائے یاکسی یا کسی اور اور طرح حملہ حملہ کرے کرے تو اس کی دیواروں کو ضعف نہ پہنچے ۔ (۷) ساتویں قلعہ کی تعمیر اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ شہر کی حفاظت کر سکے اور اس کی فصیلیں شہر کے گرد پھیلتی جائیں ۔ (۸) آٹھویں اس کی طرف آنے والے راستے ایسے رکھے جاتے ہیں جن کو ضرورت پر آسانی سے بند کیا جا سکتا ہو مثلاً تنگ وادیوں میں سے راستے گزریں تا کہ چند آدمی ہی دشمن کو قلعہ سے دور رکھ سکیں ۔ (۹) نویں قلعوں میں یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ اس کے گردا گرد کو خوب مضبوط کیا جائے اور جنگی چوکیوں کے ذریعہ سے اُس کی حفاظت کی جائے ۔ (۱۰) دسویں قلعہ کے اندر رہنے والوں کو بہادر اور جنگجو بنایا جاتا ہے تا کہ وہ دشمن سے خوب لڑسکیں ۔ (۱۱) گیارھویں اس میں حملہ کرنے ، توپوں سے بم پھینکنے یا منجنیقوں سے پتھراؤ کرنے کے لئے باہر کی طرف سوراخ ہوتے ہیں اور اس میں باہر کی طرف تو ہیں یا منجنیقیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں ۔ یہ وہ گیارہ خصوصیتیں ہیں جو عام طور پر قلعوں کی تعمیر میں بڑے بڑے انجینئر مد نظر رکھا کرتے ہیں ۔ یہ روحانی قلعہ ایسی جگہ پر بنایا گیا جہاں پانی کم یاب تھا اب میں نے کہا آوا یہ قلعہ جو قرآن نے پیش کیا