انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 48

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی پس جب خدا نے کہا کہ ہم دنیا کو متمدن بنانے والے ہیں اور ہم ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانے والے ہیں جو قانون نافذ کرے گا ، جو قانون کے ماتحت بعض لوگوں کو قتل کی سزا دے گا ، جو قانون کے ماتحت بعض لوگوں کی جائدادوں پر زبردستی قبضہ کرے گا ، جو قانون کے ماتحت فردی آزادی میں دخل انداز ہو گا ، تو چونکہ یہ ایک بالکل نئی بات تھی اس لئے فرشتوں نے اس پر تعجب کیا اور وہ حیران ہوئے کہ اس سے پہلے تو قتل کو نا جائز قرار دیا جاتا تھا مگر اب قتل کی ایک قسم جائز ہو جائے گی۔ پہلے فساد کو نا جائز قرار دیا جاتا تھا مگر اب فساد کی ایک قسم جائز ہو جائے گی ۔ یہ نقطۂ نگاہ ابتدائی زمانہ کے لحاظ سے لوگوں کے لئے نہایت ہی اہم تھا بلکہ یہ اعتراض آج بھی دنیا میں ہو رہا ہے ۔ چنانچہ یورپ میں ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پھانسی کی سزا کے مخالف ہے اور وہ اس کی دلیل یہی دیتے ہیں کہ جب کسی کو قتل کرنا نا جائز ہے تو حکومت کسی آدمی کو کیوں قتل کرتی ہے؟ حالانکہ حکومت صرف پھانسی ہی نہیں دیتی اور کئی قسم کے افعال جو بعض گناہوں سے شکل میں مشارکت رکھتے ہیں، حکومت کرتی ہے مثلاً ٹیکس لیتی ہے ۔ اور اگر پہلا خیال درست ہے تو یہ بھی کہنا پڑے گا کہ ٹیکس کی وصولی چونکہ ڈاکہ اور چوری کے مشابہ ہے اسے بھی ترک کر دینا چاہئے لیکن یہ لوگ ٹیکسوں پر اعتراض نہیں کرتے ۔ پس معلوم ہوا کہ ان لوگوں کا پھانسی پر اعتراض محض ایک وہم ہے اور قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔ ابتدائی زمانہ میں چونکہ ابھی بادشاہت کا طریق جاری نہیں تھا دنیا تمدن سے کوسوں دور تھی اس لئے جب کوئی شخص کسی کو مارتا تو سمجھا جاتا کہ اس نے بہت بُرا کام کیا ہے ۔ جب وہ کسی کو ٹوٹتا تو ہر کوئی کہتا کہ یہ نہایت کمینہ حرکت کی گئی ہے ۔ مگر جب خدا تعالیٰ نے بادشاہت قائم کی اور یہ قانون جاری ہوا کہ جو ا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے اُسے قتل کیا جائے تو لوگوں کو سخت حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہوا کہ ایک کے لئے مارنا جائز ہے اور دوسرے کیلئے نا جائز ، ایک کے لئے لوٹ کھسوٹ جائز ہے اور دوسرے کے لئے لوٹ کھسوٹ نا جائز ۔ گورنمنٹ ٹیکس لے لے تو یہ جائز ہو مگر دوسرا کوئی شخص زبر دستی کسی کا رو پیدا ٹھالے تو اسے نا جائز کہا جائے۔ گویا وہ سارے افعال جن کو بُراسمجھا جاتا ہے انہیں جب حکومت کرتی ہے تو اس کا نام تہذیب رکھا جاتا ہے اور کوئی ان پر بُرا نہیں منا تا لیکن افراد وہی فعل کریں تو اُسے بُرا سمجھا جاتا ہے ۔