انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 34

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی (۲) زمانہ کے مطابق تعلیم نہیں رہتی ۔ ان دونوں حالتوں کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی بھی دوسنتیں جاری ہیں ۔ جب کلام نا قابلِ عمل ہو جائے تو اللہ تعالی اسے منسوخ کر دیتا ہے۔ اور اس سے بہتر تعلیم بھیج دیتا ہے کیونکہ زمانہ ترقی کی طرف جارہا ہوتا ہے۔ لیکن جب لوگ عمل ترک کر دیں لیکن تعلیم محفوظ ہو تو اللہ تعالیٰ اسی کلام کو ڈہرا دیتا ہے اور اُس کا مثل نازل کر دیتا ہے یعنی اس تعلیم میں ایک نئی زندگی ڈال دیتا ہے۔ اس آیت کے آخر میں یہ جو فرمایا ہے کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں ۔ ان الفاظ سے وہ معنی جو عام طور پر اس آیت کے کئے جاتے ہیں یعنی کہا جاتا ہے کہ اس آیت میں قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے رڈ ہو جاتے ہیں کیونکہ قرآنی آیات کے منسوخ ہونے سے قدرت الہی کے اظہار کا کوئی بھی تعلق نہیں ۔ قدرت کا مفہوم انہی معنوں میں پایا جاتا ہے جو میں نے کئے ہیں ۔ پھر یہ جو فرمایا ہے کہ اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ ہر کلام جب آئے یا جب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے ، وہ ایک انقلاب چاہتا ہے اور یہی امر لوگوں کے خیال میں ناممکن ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ ایسے انقلاب پر قادر ہے خواہ نئے کلام کے ذریعہ سے وہ انقلاب پیدا کر دے خواہ پُرانے کلام ہی کو زندہ کر کے انقلاب پیدا کر دے ۔ یہ یہ معنی جو میں نے کئے کئے ہیں گو جدید ہیں لیکن آیت کے تمام ٹکڑوں کا حل انہی معنوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ پہلے مفسر اس کے معنی یہ کیا کرتے تھے کہ قرآن میں بعض آتیں اللہ تعالیٰ نازل کرتا اور پھر انہیں منسوخ کر دیتا ہے۔ مخالف ان معنوں پر تمسخر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ وہ آیت نازل کر کے اسے منسوخ کیوں کرتا ہے؟ کیا اسے حکم نازل کرتے نازل کرتے وقت یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ حکم لوگوں کے مناسب حال نہیں ۔ دوسرے نسخ سے تو اس کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔ پھر اس کے ذکر کے بعد اس فقرہ کے کیا معنی ہیں کہ ان الله عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ مگر جو معنی میں نے کئے ہیں ان میں ایک زبردست قدرت کا اظہار ہے یہ آسان کام نہیں کہ ایک ایسے قانون کو جو لوگوں کے دلوں پر نقش فِي الْحَجَرِ کی طرح جما ہوا ہو اور جسے چھوڑنے کیلئے وہ کسی صورت میں تیار نہ ہوں ، مٹا کر اس کی جگہ ایک نیا قانون قائم کر دیا جائے ۔ یا جب کہ ایک قوم مرگئی ہوا اور الہی قانون کو پسِ پشت ڈال چکی ہو اور اس کی خوبیوں سے غافل ہوگئی ہو پھر اس مردہ قوم میں