انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 609

انوار العلوم جلد ۱۵ چاند میرا چاند ہوتا تھا اس کی نیک فطرت نے اس شعر سے سمجھ لیا کہ میں اسے کہہ رہا ہوں کہ اب تم کو عملی زندگی میں قدم رکھنا چاہئے اور ہر طرح کے خطرات برداشت کر کے اسلام کیلئے کچھ کر کے دکھانا چاہئے ۔ خدا کی قدرت عمل میں کامیابی کا منہ دیکھنا اس کے مقدر میں نہ تھا۔ موت میں زندگی اللہ تعالیٰ نے اسے دے دی وہ قادر ہے جس طرح چاہے اسے زندگی بخش دیتا ہے۔ ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی جا لیٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پروا نہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُذْكُرُوا امَوْتَا كُمُ بِالْخَيْرِ مُردوں کا نیک ذکر قائم رکھو اسی لئے میں نے اس واقعہ کا ذکر کر دیا ہے کہ اس سے مرحومہ کی سعید طبیعت کا اظہار ہوتا ہے کس طرح اس نے اس شعر کا اپنے آپ کو مخاطب سمجھا حالانکہ بہت ' بہت ہیں جو نصیحت کو سنتے ہیں اور اندھوں کی طرح اس پر سے گزر جاتے ہیں اور کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ اس موقع پر ایک اور واقعہ مرحومہ کا مجھے یاد آ گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کس طرح نصیحت پر فوراً عمل کرنے کا احساس تھا اور میرے لفظوں پر وہ کہ پر وہ کس طرح کان رکھتی تھی ۔ میں نے سفر میں دیکھا کہ عزیز منصور احمد سلمہ اللہ تعالیٰ جرمن ریڈیو کی خبریں شوق سے سنا کرتے تھے مجھ پر یہ اثر ہوا کہ شاید وہ ان خبروں کو زیادہ درست اور زیادہ سچا سمجھتے ہیں ۔ مجھے یہ بات کچھ بُری معلوم ہوئی۔ میری بیوی اور لڑکیاں ایک کمرہ میں بیٹھی ہوئی تھیں میں وہاں آیا اور میں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم مگر اس وقت تک جو ہمارا علم ہے وہ یہی ہے کہ انگریزوں کی کامیابی میں دنیا کی بھلائی ہے۔ پس جب تک ہمارا علم یہ کہتا ہے ہمیں ان سے ہمدردی ہونی چاہئے اور ان کی تکلیف سے تکلیف اور ان کی کامیابی سے خوشی ہونی چاہئے ۔ پھر نہ معلوم ہمارے بچے کیوں خوشی سے جرمن خبروں کی طرف دوڑتے ہیں ۔ میں بات کر رہا تھا کہ امۃ الودود مرحومہ وہاں سے اُٹھ کر چلی گئیں مجھے حیرت ہوئی کہ بات کے درمیان میں یہ کیوں اٹھ گئیں اور مجھے خیال ہوا کہ شاید اپنے بھائی کے متعلق بات سن کر وہ برداشت نہیں کر سکیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ واپس آئیں اور کہا کہ میں نے بھائی سے کہا ہے کہ جب چچا ابا اس امر کو پسند نہیں کرتے تو آپ کیوں اس طرح خبریں سنتے ہیں ۔ بھائی نے جواب دیا کہ اگر وہ منع کریں تو میں کبھی یہ بات نہ کروں۔ میں نے کہا بی بی منع کرنے کی کیا ضرورت ہے میرے خیال کا اظہار کیا کافی نہیں ۔ اس پر اس نے کہا کہ میں نے بھائی سے یہی کہا