انوارالعلوم (جلد 15) — Page 591
انوار العلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک ہیں۔ تاہم ان کی کامیابی کیلئے ہم دعا ہی کرتے ہیں گو یہ دعا ویسی نہیں ہو سکتی جیسی وہ دعا جس کے لئے وہ خود درخواست کریں کیونکہ موجودہ صورت تو ایسی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویا انہیں ہماری دعاؤں کی احتیاج نہیں لیکن اگر وہ توحید کا اقرار کر کے ہم سے دعا کی درخواست کریں تو پھر وہ دعا ایسی ہی ہو گی جیسے دعائے مباہلہ ہوتی ہے اور جو سیدھی اپنے نشانہ پر پہنچتی ہے۔ اگر وہ ایسا کریں تو یقیناً ان کی تکلیف کے دن دور ہو سکتے ہیں ۔ ان مختصر نصائح کے بعد میں دعا کرتا ہوں دوستوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس دعا میں شامل ہوں اور وہ یاد رکھیں کہ اس وقت انگریزوں یا فرانسیسیوں کا سوال نہیں بلکہ جہاں تک ہمارا علم ہے اور جہاں تک ہماری عقل کام کرتی ہے اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی آزادی ، حریتِ ضمیر اور حریتِ عمل کا سوال ہے۔ پس نہایت ہی درد اور کرب کے ساتھ دعا کرو اس شخص سے بھی زیادہ درد اور کرب کے ساتھ جس کا بیٹا یا باپ یا بھائی یا کوئی اور عزیز رشتہ دار مر رہا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہا ہو جو درد ایسے شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے اس سے بھی زیادہ درد اس وقت تمہارے دل میں پیدا ہونا چاہئے اور اسی درد اور کرب کے ساتھ تمہیں دعا کرنی چاہئے کیونکہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ بہت ہی خطرناک ہے ۔ اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔ ( الفضل ۴ رجون ۱۹۴۰ء ) ا بخاری کتاب الجمعة باب الساعة التي في يوم الجمعة کے بیونٹ(BAYONET) رائفل کے سامنے کا خنجر فلینڈرز ۔FLANDERS رز 1۔ نشیبستان (ہالینڈ لحیم لکسمبرگ) کا سابق ضلع ۔ اب کیجیئم اور فرانس میں بٹا ہوا ہے ۔ بیلجـمـی فلینڈرز کے باشندوں کی اکثریت فلیمی زبان بولتی ہے۔ ۔ حوالے کیا گیا۔ ۱۷ء میں فرانس سے ا سے الحاق ہوا۔ ۱۸۱۵ء میں اسے ہالینڈ کے ۱۷۹۷ء بيلية ۱۸۳۰ ء میں حیم کا کا حصہ بنا اور دو صوبوں میں بٹا۔ دوسری عالمی جنگ میں فلینڈرز کی لڑائی ہالینڈ و کیم پر جرمن فوجوں کے حملے بیلجیم پر جرمن فوجوں کے حملے سے شروع ہوئی ۔ ۔ ( اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۱۰۲ ۔ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء ) ABDICATE : تخت سے دستبردار ہونا