انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 588

انوار العلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک جب جرمنی کے مقابلہ میں اتحادی فوجوں کو فلنڈ رز (FLANDERS) سے میں پہلی شکست ہوئی تو اس وقت میں کراچی میں تھا مجھ پر اس خبر کا اتنا گہرا اثر ہو ا کہ رات کو میری نیند اُڑ گئی اور بے چینی اور اضطراب کی حالت میں میں نے اتحادیوں کی کامیابی کیلئے دعا کرنی شروع کر دی اور گھنٹوں دعا کرتا رہا۔ جب صبح ہونے کے قریب ہوئی تو اس وقت مجھے الہام ہوا۔ ہم الزام اُن کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا“ میں نے بعد میں سوچا کہ اس کا کیا مفہوم ہے۔ تو اس کا مطلب میری سمجھ میں یہ آیا کہ ابھی دو چار سال پہلے تو بہت سے احمدیوں کے دلوں سے حکومت کے خلاف آہیں نکل رہی تھیں اور اب ان کی کامیابی کیلئے دعائیں کر رہے ہو گو یا اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ہماری جماعت کی طرف سے اس موقع پر جو بددعائیں کی گئی تھیں وہ ضرورت سے زیادہ تھیں اور اس میں توازن کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا۔ یعنی یہ نہیں دیکھا گیا کہ ظلم کتنا ہے اور آہیں کتنی بلند ہو رہی ہیں اور نہ یہ سوچا گیا کہ اگر یہ حکومت تہ و بالا ہو گئی تو اس کے بعد جو آئے گا وہ کیسا ہوگا ۔ اچھا ہو گا یا بُرا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا کہ الزام تو اُن پر دیا جاتا تھا مگر اب قصور خود جماعت کا نقل آیا کیونکہ گوانگریز حکام الزام کے نیچے تھے مگر ان کا جرم اتنا نہ تھا کہ اس کے نتیجہ میں اس قدر آ ہیں تمہارے دلوں سے نکلتیں جس قدر نکلیں اور اس قدر بد دعائیں کی جاتیں جس قدر بد دعائیں کی گئیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس الہام کے ذریعہ یہ سبق دیا ہے کہ ہر بات میں توازن کو ملحوظ رکھنا چاہئے ۔ میں تو اُس وقت بھی جماعت کو روکتا تھا اور بار بار کہتا تھا کہ یہ جھگڑا چند مقامی افسروں سے ہے حکومت برطانیہ سے اس جھگڑے کا کوئی تعلق نہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بارہ میں میں مجرم نہیں ۔ مگر ذاتی سے بارہ طور پر مجھے معلوم ہے کہ جماعت کے بعض دوستوں نے انگریزوں کے خلاف بڑی بڑی بددعائیں کی ہیں ۔ پس اب اللہ تعالیٰ نے یہ حالات پیدا کر کے ہمیں ہی مجبور کیا کہ ہم ان کی کامیابی کیلئے دُعائیں کریں کیونکہ وہ خطرہ جو آنے والا ہے بہت زیادہ سخت ہے۔ وہ والا انگریزوں کی مثال در حقیقت ایسی ہی ہے جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ دو یتیم بچوں کا خزانہ ایک دیوار کے نیچے دبا ہوا تھا ۔ ایک مدت کے بعد وہ دیوار بوسیدہ ہو کر گرنے کے قریب ہو گئی ۔ اب بظاہر دیوار کا گر جانا مفید تھا کیونکہ اس کے گر جانے سے خزا نہ نکل سکتا تھا مگر