انوارالعلوم (جلد 15) — Page 568
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده في الأرض مگر اس بات کو بھی یاد رکھو کہ وَمَنْ كَفَرَ بَعد ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُوْنَ خدا تمہارے ساتھ ہو اور ابد الآباد تک تم اس کی برگزیدہ جماعت رہو۔ الناشر شرکتم الاسلامیہ لمیٹڈ ر بوه طبع ضیاء الاسلام پریس ) اختتامی الفاظ : ۲۹ / دسمبر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے دو بجے جب تقریر ختم فرمائی تو جلسہ پر تشریف لانے والے اصحاب کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا :- اب جلسہ ختم ہوتا ہے اور احباب اپنے گھروں کو جائیں گے۔ انہیں احمدیت کی ترقی کیلئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہئے ۔ اولاد پیدا ہونے کے ذریعہ بھی ترقی ہوتی ہے مگر وہ ایسی نہیں جو تبلیغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ ترقی اولاد کے ذریعہ ہونے والی ترقی سے بڑھ کر با برکت ہوتی ہے۔ رسول کریم نے فرمایا ہے۔ ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس سے زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کسی کے پاس اس قدر سرخ اونٹ ہوں کہ ان سے دو وادیاں بھر جائیں۔ ۹۲ پس تبلیغ کرو اور احمدیت کی اشاعت میں منہمک رہو تا کہ تمہاری زندگی میں اسلام اور احمدیت کی شوکت کا زمانہ آ جائے جبکہ سب لوگ احمدی ہو جائیں گے تو پھر رعایا بھی احمدی ہوگی اور بادشاہ بھی احمدی ۔ میں نے بچپن میں ایک رؤیا دیکھا تھا بارہ تیرہ سال کی عمر تھی کہ کبڑی ہو رہی ہے۔ ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ساتھی جو شخص کبڈی کہتا ہوا مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے آتا ہے اسے ہم مار لیتے ہیں ۔ وسے اور اس میں قاعدہ یہ ہے کہ جو مر جائے وہ دوسر ہے کہ جو مر جائے وہ دوسری پارٹی کا کا ہو جائے ۔ اس قاعدہ اعدہ کی رُو مولوی صاحب کا جو ساتھی مارا جاتا وہ ہمارا ہو جاتا ۔ مولوی صاحب کے سب ساتھی اس طرح ہماری طرف آ گئے تو وہ اکیلے رہ گئے اس پر انہوں نے پاس کی دیوار کی طرف منہ کر کے آہستہ آہستہ لکیر کی طرف بڑھنا شروع کیا اور لکیر کے پاس پہنچ کر کہا میں بھی اس طرف آ جاتا ہوں اور وہ بھی آگئے ۔ مولوی محمد حسین صاحب سے مراد ائمۂ کفر ہیں اور اس طرح بتایا گیا کہ جب عام لوگ احمدی ہو جائیں گے تو وہ بھی ہو جائیں گے اور جب رعایا احمدی ہو جائے گی تو بادشاہ بھی ہو جائیں گے پس تبلیغ کرو، احمدیت کو پھیلاؤ اور دعاؤں میں لگے رہو۔ دل میں درد پیدا کرو، عاجزی ، فروتنی اور دیانت داری اختیار کرو اور ہر طرح خدا کے مخلص بندے بننے کی کوشش کرو۔ اگر کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر اصرار مت کرو کیونکہ جو اپنی غلطی پر اصرار کرتا ہے اس کے اندر