انوارالعلوم (جلد 15) — Page 28
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ۔ میں بلا کر خوب اچھا رکھلایا اور پانی کے جس قدر گھڑے تھے وہ یا تو توڑ پھوڑ دیئے یا کہیں چُھپا کر رکھ دیئے۔ جب اس نے خوب اچار کھا لیا تو اُسے پیاس لگی مگر اس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو پانی موجود نہیں تھا اس لئے وہ پانی نہ پی سکا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ اس کا گھر ماں باپ کے گھر ۔ سے کوئی میل بھر دُور تھا۔ وہاں دوڑا دوڑا پہنچا اور بیوی سے کہنے لگا مجھے سخت پیاس لگی ہوئی ہے پانی ہے تو پلاؤ ۔ وہ کہنے لگی پانی تو ہے مگر برتن میرا ہے اگر کہو تو اپنے برتن میں پانی پلا دوں؟ وہ کہنے لگا یہ تو دھرم کے خلاف ہے ۔ آخر جب پیاس سے اس کا بہت ہی بُرا حال ہوا اور اُس نے سمجھا کہ اب میں مرا جاتا ہوں تو بیوی سے کہنے لگا اپنے منہ میں پانی ڈال کر میرے منہ میں ڈال دے۔ چنانچہ اس نے مُنہ میں پانی لیا اور اُس کے مُنہ میں ے منہ میں گلی کر دی ۔ ماں باپ جو کہیں چُھپ کر یہ تمام نظارہ دیکھ رہے ۔ نظارہ دیکھ رہے تھے دوڑتے ۔ تے ہوئے آئے اور اپنے بچہ سے یہ کہتے ہوئے چمٹ گئے کہ شکر ہے پر پرمیشور میشه کی دیا 9 سے ہمارے بچہ کا دھرم بھرشٹ کے نہیں ہوا۔ یہ قصہ اسی گہرے نسلی تعصب کا ایک مضحکہ خیز ظہور ہے۔ جو آرین تہذیب کی خصوصیات سے ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج تک اس تہذیب کے گہرے اثرات کروڑوں آدمیوں کے دلوں پر منقش ہیں جس کی وجہ سے برہمن شودر کا جھگڑا اب تک ہندوستان میں چلا جاتا ہے۔ یہ تہذیبی فلسفے بعض دفعہ مخلوط بھی ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں اور نئی چیزیں آ ملتی ہیں مگر اصلی فلسفہ کا نشان موجود رہتا ہے مٹتا نہیں ۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں ہے مٹتا نہیں ۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں ہندوستان میں اسی قسم کا ایک تغیر رونما ہو رہا ہے۔ انگریزوں کی لمبی حکومت نے اور مغربی اقوام کی ترقی نے ہندوستان میں مغربیت کا پودا پیدا کر دیا ہے جو روز بروز جڑ پکڑتا جاتا ہے اور اس کی شاخیں چاروں طرف پھیلتی جاتی ہیں خصوصاً تعلیم یافتہ لوگوں میں جن کا اوڑھنا بچھونا ہی مغربیت ہے وہ مغربیت کے رنگ میں پورے طور پر رنگین ہیں اور اُسی کی عینک سے ہر شے کو دیکھتے ہیں ۔ آزادی کی تہذیب نے اس تہذیب کو ایک دھکا لگایا ہے مگر اُسی طرح جس طرح قدیم زمانہ میں ہوا کرتا تھا یعنی سطحی تغیرات کے ساتھ مغربی فلسفہ کو اپنا لیا گیا ہے۔ اگر آج انگریزی حکومت ہندوستان سے جاتی رہے تو بھی انگریزی حکومت کا طریق نہیں مٹ سکتا ۔ وہی کونسلیں ہونگی ، وہی پارلیمنٹیں ہونگی ، وہی دستور ہوگا اور کونسلوں کے سپیکروں کے سامنے جب بھی کوئی مشکل سوال آئے گا وہ یہی کہیں گے کہ میں گل تک غور کر کے جواب دونگا اور غور سے مُراد ان کی یہ ہوگی کہ مغربی پارلیمنٹوں کے دستور کو دیکھ کر نتیجہ نکالوں گا کہ مجھے اس موقع پر کیا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ گویا یہ تغير جو