انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 555

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده آپ نے یہی کہا کہ میری بات صحیح ہے اور تمہاری غلط ۔ یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ کبھی لوگوں نے آپ کو سیدھا کیا ہو۔ یا آپ نے ہی لوگوں سے کہا ہو کہ اے مسلمانو ! میں کچھ ٹیڑھا سا ہو گیا ہوں مجھے سیدھا کر دینا ۔ پس آپ کے قول کے وہی معنی لئے جا سکتے ہیں جو خدا اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں اور خود آپ کے فعل کے مطابق ہوں نہ کہ مخالف ۔ یا کجی سے مراد صرف گفر بواح سے سویا درکھنا چاہئے کہ آپکی ٹیڑھا ہونے سے مراد وہی کفر بواح ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ جب تک میں اسلام پر چلتا ہوں تم پر میری اطاعت فرض ہے اور اگر میں اسلام کو ترک کر دوں یا مجھ سے کفر بواح صادر ہو تو پھر تم پر یہ فرض ہے کہ میرا مقابلہ کر دور نہ یہ مراد نہیں کہ میرے روز مرہ کے فیصلوں پر تنقید کر کے جو تمہاری مرضی کے مطابق ہوں ان پر عمل کرو اور دوسروں کو چھوڑ دو۔ کیا حضرت ابوبکر کفر بواح کر سکتے تھے؟ اگر کوئی کہے کہ کیا حضرت ابوبکر کفر بواح کر سکتے تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا حضرت ابو بکر اس قدر ٹیڑھا ہو سکتے تھے کہ انہیں سیدھا کرنے کی مسلمانوں کو ضرورت پیش آئے ! ایسی صورت تو اُسی وقت پیش آ سکتی تھی جب صحابہ کہیں کہ قرآن اور حدیث سے فلاں امر ثابت ہے اور حضرت ابو بکر کہیں کہ میں قرآن اور حدیث کی بات نہیں مانتا ۔ پس کیا یہ ممکن تھا کہ حضرت ابو بکر کبھی قرآن اور حدیث کے خلاف ایسا قدم اٹھا سکیں ؟ اور مسلمانوں کو انہیں لٹھ لیکر سیدھا کرنے کی ضرورت پیش آئے ۔ اگر اس قدر کجی بھی آپ سے ممکن نہ تھی مگر آپ نے یہ فقرہ کہا تو کفر بواح بھی گو آپ سے ممکن نہ تھا مگر آپ نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ صداقت از لی سب چیزوں سے بڑی ہے یہ فقرہ کو یہ فقرہ کہہ دیا اس سے آپ کا یہ منشاء نہیں تھا کہ نَعُوذُ بِاللہ آپ سے کفر بواح صادر ہو سکتا ہے بلکہ یہ منشاء تھا کہ میری حیثیت محض ایک خلیفہ کی ہے اور میرا کام اپنے رسول اور مطاع کی تعلیم کو صیح رنگ میں دنیا میں قائم کرنا ہے۔ پس تم اس صداقت از لی کو ہر چیز پر مقدم رکھو اور خواہ میں بھی اُس کے خلاف کہوں تم اصل تعلیم کو کبھی ترک نہ کرو۔ قرآن کریم سے بعض مثالیں اب میں بتاتا ہوں کہ اس قسم کے الفاظ قرآن کریم میں بھی موجود ہیں ۔ حضرت شعیب فرماتے ہیں ۔