انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 520

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده م دیتے سے لڑائی ہوئی وہ حکومت بڑی زبردست تھی اور اُس سے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ایسا ہی تھا جیسے افغانستان انگریزی حکومت سے لڑائی شروع کر دے مگر باوجود اتنی زبر دست حکومت کے ساتھ جنگ جاری ہونے کے جب حضرت عمرؓ کے سامنے یہ سوال پیش ہوا کہ کسری کی فوجوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں سرگرمی دکھانی شروع کر دی ہے اور اُن کے بہت سے علاقے جو مسلمانوں کے قبضہ میں تھے اُن میں بغاوت اور سرکشی کے آثار کے آثار ظاہر ہور۔ ہر ہو رہے ہیں تو وہی عمر جوا بو بکر کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اگر ہم ایک ہی وقت میں ایک طرف خیش اسامہ کو رومیوں کے مقابلہ میں بھیج دیں گے اور دوسری طرف اندرونی باغیوں کا مقابلہ کریں گے تو یہ سخت عنا یہ سخت غلطی ہو گی حکم د۔ ہیں کہ فوراً ایران پر حملہ کر دو۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں روز بر دست حکومتوں سے کس طرح مقابلہ ہو گا مگر آپ فرماتے ہیں کچھ پروا نہیں جاؤ اور مقابلہ کرو۔ مسلمان چونکہ اُس وقت رومی حکومت سے جنگ کرنے میں مشغول تھے اس لئے ایران پر مسلمانوں کا حملہ اس قدر دور از قیاس تھا کہ ایران کے بادشاہ کو جب یہ خبریں پہنچیں کہ مسلمان فوجیں بڑھتی چلی آ رہی ہیں تو اُس نے ان خبروں کو کوئی اہمیت نہ دی اور کہا کہ لوگ خواہ مخواہ جھوٹی افواہیں اُڑا رہے ہیں مسلمان بھلا ایسی حالت میں جب کہ وہ پہلے ہی ایک خطرناک جنگ میں مبتلاء ہیں ایران پر حملہ کرنے کا خیال بھی کر سکتے ہیں ۔ ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ تک تو ایرانیوں کی شکس تو ایرانیوں کی شکست کی بڑی وجہ یہی رہی کہ دارالخلافہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی فوج نہیں آتی تھی اور بادشاہ خیال کرتا تھا کہ لوگ جھوٹی خبریں اُڑا رہے ہیں مگر جب کثرت اور تواتر کے ساتھ اُسے اس قسم کی خبریں پہنچیں تو اُس نے اپنا ایک جرنیل بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ میرے پاس صحیح حالات کی رپورٹ کرو۔ چنانچہ اس نے جب رپورٹ کی کہ مسلمان واقع میں حملہ کر رہے ہیں اور وہ بہت سے حصوں پر قابض تبھی ہو چکے ہیں تب اس نے اُن کے مقابلہ کیلئے فوج بھیجی ۔ اس سے تم اندازہ لگا لو کہ مسلمانوں کا اس لڑائی میں گودنا بظاہر کتنا خطر ناک تھا جب کہ اس کے ساتھ ہی وہ رومی لشکروں کا بھی مقابلہ کر رہے تھے مگر حضرت عمر کو خدا تعالیٰ نے مقام خلافت پر کھڑا کرنے کے بعد جو قوت بخشی اُس کے آگے ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہ تھی ۔ حضرت ابو ہریرہ کا کسری کے رومال میں تھوکنا یہی وہ جنگ ہے جس میں مسلمانوں کو جب فتح حاصل ہوئی تو مال غنیمت میں کسری کا ایک رومال بھی آیا جو حضرت ابو ہریرہ کو ملا۔ ایک دن