انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 506

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اُمت کے گنہگار ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ صریح وعدہ ہے کہ وہ اُس وقت تک خلیفہ بنا تا چلا جائے گا جب تک جماعت میں کثرت مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی رہے گی ۔ جب اس میں فرق پڑ جائے گا اور کثرت مؤمنوں اور عملِ صالح کرنے والوں کی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب چونکہ تم بد عمل ہو گئے ہو اس لئے میں بھی اپنی نعمت تم سے واپس لیتا ہوں ۔ ( گو خدا چاہے تو بطور احسان ایک عرصہ تک پھر بھی جما ی جماعت میں خلفاء بھجواتا رہے ) پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ خراب ہو گیا ہے وہ بالفاظ دیگر اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہو چکی ہے کیونکہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک اُمت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے گی اُس میں خلفاء آتے رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم ہو جائے گی تو خلفاء کا آنا بھی بند ہو جائے گا۔ پس خلیفہ کے بگڑنے کا کوئی امکان نہیں ہاں اس بات کا ہر وقت امکان ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عمل صالح سے محروم نہ ہو جائے ۔ اور چونکہ خلیفہ نہیں بگڑ سکتا بلکہ جماعت ہی بگڑ سکتی ہے اس لئے جب کوئی شخص دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرتا ہے کہ جماعت احمد یہ کا خلیفہ بگڑ گیا تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ابھی جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کثیر صحابہ ہم میں موجود ہیں ، جب کہ زمانہ ابھی دجالی فتن سے پُر ہے، جب کہ اس درخت کی ابھی کونپل ہی نکلی ہے جس نے تمام دنیا میں پھیلنا ہے تو شیطان اس جماعت پر حملہ آور ہوا ۔ اُس نے اُس کے ایمان کی دولت کو لوٹ لیا ، اعمال صالحہ کی قوت کو سلب کر لیا اور اس درخت کی کونپل کو اپنے پاؤں کے نیچے مسل ڈالا جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ایک بار آور درخت کی صورت میں تمام دنیا کو اپنے سایہ سے فائدہ پہنچائیگا کیونکہ بقول اُس کے خلیفہ خراب ہو گیا اور قرآن یہ بتاتا ہے کہ سچے خلفاء اُس وقت تک آتے رہیں گے جب تک جماعت کی اکثریت ایمان اور عمل صالح پر قائم رہے۔ پس خلافت کا انکار محض خلافت کا انکار نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ جماعت ایمان اور عمل صالح سے محروم ہو چکی ہے ۔ تمکین دین کا نشان چوتھی علامت خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اُن کے دینی احکام اور خیالات کو اللہ تعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔ چنانچہ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ كہ اللہ تعالیٰ اُن کے دین کو تمکین دے گا اور با وجود مخالف حالات کے اُسے دنیا میں قائم کر دے گا ۔ یہ ایک زبردست ثبوت خلافت حقہ کی تائید میں ہے اور جب اس پر غور کیا جاتا ہے تو خلفائے راشدین کی صداقت پر خدا تعالیٰ کا یہ ایک