انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 479

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ کے الفاظ پر دشمنان ازواج مطهرة کے الفاظ پرکنی نادان دشمنان اسلام اعتراض کرتے رہتے ہیں اسلام کا ایک ناواجب اعتراض کہ اسلام جنت کو ایک پگلہ بناتا ہے کیونکہ عورتوں کا بھی ساتھ ہی ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے جنت میں جہاں مرد ہونگے وہاں عورتیں بھی ہونگی حالانکہ وہ نادان نہیں جانتے کہ چکلہ تو وہ خود اپنے محبت نفس کی وجہ ۔ وجہ سے بناتے ہیں ۔ ورنہ اسلام تو یہ بتاتا ہے کہ جس طرح مرد جنت کے حقدار ہیں عورتیں بھی حقدار ہیں اور یہ کہ جنت مرد اور عورت کے تعاون سے بنتی ہے ، اکیلا مرد جنت نہیں بنا سکتا۔ چنانچہ دیکھ لو اس رکوع میں دنیوی حکومتوں کا ذکر ہے اور ان حکومتوں کا ذکر کرتے کرتے اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اس جنت میں عورتوں کا شریک ہونا بھی ضروری ہے اور اگر وہ شریک نہ ہوں تو یہ جنت مکمل نہیں کہلا سکتی ۔ پس جنت مرد اور عورت دونوں مل کر بناتے ہیں اور اگر وہ دونوں متحدہ طور پر کوشش نہ کریں تو کبھی یہ جنت نہیں بن سکتی نہ دنیا کی جنت اور نہ اُخروی جنت ۔ بلکہ دنیا کی جنت کی تعمیر میں بھی مرد اور عورت کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے اور اُخروی جنت کی تعمیر میں بھی مرد کے ساتھ عورت کی شراکت ضروری ہے۔ اگر وہ دونوں مل کر اس جنت کی تعمیر نہیں کریں گے تو کبھی خُلِدِينَ فِيهَا والی نعمت کو وہ حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ عورت اور مرد کے تعاون کے بغیر نہ دُنیوی اگر لوگ اس نکتہ کو سمجھتے اور قومی زندگی میں عورت کو شریک رکھتے جنت حاصل ہو سکتی ہے اور نہ اُخروی اور اس کی اہمیت اور قدر و قیمت کو پہچانتے تو آج اسلام کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے اور نہ دنیا کی وہ حالت ہوتی جو دکھائی دے رہی ہے بلکہ یہ دنیا انسانوں کیلئے جنت ہو جاتی اور وہ یہیں جنت کو پالیتے ۔ مگر جو لوگ عورت کے بغیر جنت حاصل کرتے ہیں اُن کی جنت حقیقی جنت نہیں ہوتی کیونکہ جنت کی خصوصیت یہ ہے کہ جنت عدن ہو۔ اور عورت کے بغیر جنت عدن نصیب نہیں ہوتی بلکہ ادھر مرد جنت تیار کرتا ہے اور اُدھر عورت اُس کی اولاد کو جنت سے باہر نکال دیتی ہے کیونکہ اولاد کی صحیح م کو دائمی جنت حاصل نہیں ہو سکتی اور اولاد کی تربیت کا اکثر حصہ چونکہ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لئے اس جنت کی تکمیل کیلئے عورت کے تعاون اور اس کو اپنے ساتھ شریک