انوارالعلوم (جلد 15) — Page 20
انوار العلوم جلد ۱۵ میں مبتلا نہ کر دیا گیا ہوتا تو یقیناً اس قابل تھا کہ اس کی داد دی جاتی ۔ انقلاب حقیقی (۲) رومن تہذیب کی بنیاد قانون پر اور انسانی رومن تہذیب کی بنیاد کو اپنی انا یا ان کے علمبرداریان قانون اور حقوق انسانی نے اول اول انسانی حقوق کو تسلیم کیا اور ایسی بنیاد رکھی کہ اگر کسی کو کوئی سزا دینی ہو تو قانون کے ماتحت دی جائے ۔ اس طرح وہ سیاست کو قانون کے ماتحت لائے اور انہوں نے ایسے اصول بنائے جن سے ایک نظام کے ماتحت انسانوں پر حکومت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ رومن لا ءاب تک مغرب میں پڑھایا جاتا ہے اور اس کے اصول سے آج بھی قانون دان فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ ایرانی تہذیت کا پیغام اخلاق و سیاست (۳) ایرانی تہذیب کی بنیاد و اخلاق اور سیاست پر ہے۔ اسی وجہ سے ان میں خدا تعالیٰ کے متعلق بھی یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کیلئے ممکن نہ اتعالیٰ کیلئے ممکن نہیں کہ وہ گناہ جیسی گندی شے کو پیدا کرے اس لئے دراصل دو خدا ہیں ایک نیکی کا اور ایک بدی کا ۔ گویا اخلاق کو انہوں نے اتنی اہمیت دی کہ ان کے لئے یہ امر نا قابلِ تسلیم ہو گیا کہ ایک غیر اخلاقی امر کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائے لیکن چونکہ گناہ دُنیا میں موجود تھا انہوں نے یہ فلسفہ ایجاد کیا کہ گناہ کا پیدا کرنے والا کوئی اور خدا ہونا چاہئے جو قابل پرستش نہیں بلکہ قابلِ نفرت ہو۔ دوسرا فلسفہ جس پر ایرانی تہذیب کی بنیاد تھی تعاون باہمی کا فلسفہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی تہذیب نے پہلے پہلے اُس خیال کی بنیاد رکھی جسے امپائر یا شہنشاہیت کہتے ہیں ۔ یعنی سب سے پہلے اسی نظام نے باہمی تعلق رکھنے والی آزاد حکومتوں کے اصول کو ایجاد کیا اور اسے تکمیل تک پہنچا یا ۔ در حقیقت یہ خیال بھی ثانویت کے عقیدہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ جب انہوں نے یہ ں نے یہ تسلیم کیا کہ دو خدا ہیں جو آزاد بھی ہیں لیکن پھر ایک دوسرے سے بڑا بھی ہے تو اس کے ماتحت انہوں نے دنیا میں بھی ایسا نظام ایجاد کیا کہ ایک بڑا بادشاہ ہو اور بعض اس سے چھوٹے بادشاہ ہوں جو آزاد بھی ہوں اور پھر ایک بالا طاقت کے ماتحت بھی ہوں ، اور اسی عقیدہ سے شہنشاہیت کے خیال کو نشو و نما حاصل ہوئی ۔ ہندوستان یا دوسرے ممالک میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی کہ ایک زبردست بادشاہ ایک