انوارالعلوم (جلد 15) — Page 471
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده سامنے صرف جماعت کے اتحاد کا سوال تھا۔ یہ سوال نہیں تھا کہ ہم میں سے خلیفہ ہو یا اُن میں سے۔ چنانچہ گو عام طور پر وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے اُن کا یہی خیال تھا کہ ہم کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے جس کے عقائد ان کے عقائد سے مختلف ہوں کیونکہ اس طرح احمدیت کے ہٹ جانے کا اندیشہ ہے مگر میں نے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ اگر حضرت خلیفہ امسیح کی وفات پر ہمیں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو ہمیں انہیں لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنا چاہئے ۔ چنانچہ میں نے اکثر دوستوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ اگر جھگڑا محض اس بات پر ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو ہم میں سے یا اُن میں سے تو ہمیں اُن میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔ ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول حضرت خلیفہ اول کی وفات وفات پا گئے ۔ میں جمعہ پڑھا کر نواب محمد علی خان صاحب کی گاڑی میں آ رہا تھا کہ راستہ میں مجھے آپ کی وفات کی اطلاع ملی اور اس طرح میرا ایک اور خواب پورا ہو گیا جومیں نے اس طرح دیکھا تھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جارہی ہے کہ راستہ میں مجھے کسی نے حضرت خلیفہ اس کی وفات کی خبر دی ۔ میں اس رؤیا کے مطابق سمجھتا تھا کہ غالبا میں اس وقت سفر پر ہونگا جب حضرت خلیفہ المسح الاول کی وفات ہوگی مگر خدا تعالیٰ نے اسے اس رنگ میں پورا کر دیا کہ جب جمعہ پڑھا کر میں گھر واپس میں دیا آیا تو نواب محمد علی خان صاحب کا ملازم ان کا یہ پیغام لے کر میرے پاس آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے ۔ چنانچہ میں اُن کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر چل پڑا اور راستہ میں مجھے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی وفات کی اطلاع مل گئی ۔ لم ۔ دعاؤں کی تحریک حضرت خلیق ان مسیح الاول کی وقت پرتمام جماعتوں کوتاری بھجوادی جوادی گئیں اور میں نے دوستوں کو تحریک کی کہ ہر شخص اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے دعاؤں میں لگ جائے ۔ راتوں کو تہجد پڑھے اور جسے توفیق ہو وہ گل روزہ بھی رکھے تا کہ اللہ تعالی اس مشکل کے وقت جماعت کی صحیح راہنمائی کرے اور ہمارا قدم کسی غلط راستہ پر نہ جا پڑے۔