انوارالعلوم (جلد 15) — Page 468
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده جائیں گے تو پھر کوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا۔ ہماری موجودگی میں آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا ۔ خواب میں نے حضرت خلیفہ اول کو سنائی ہوئی تھی ۔ چنانچہ اس جلسہ میں شامل ہونے کیلئے جب میں آیا تو مجھے اُس وقت وہ خواب یاد نہ رہی اور میں حضرت خلیفہ اول کے بائیں طرف بیٹھ گیا اس پر آپ نے فرمایا ۔ میاں ! یہاں سے اُٹھ کر دائیں طرف آجاؤ اور پھر خود ہی فرمایا۔ تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے ؟ میں نے عرض کیا مجھے تو معلوم نہیں ۔ اس پر آپ نے میری اُسی خواب کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس خواب کی وجہ سے میں نے تمہیں ا دائیں طرف بٹھایا ہے ۔ اپنے جب آپ تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ اُس جگہ کھڑے ہوتے جو آپ کیلئے تجویز کی گئی تھی آپ اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنوایا تھا اور لوگوں پر اظہار نا راضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ اپنے پیر کی بنائی ہوئی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں ۔ اس کے بعد آپ نے مسئلہ خلافت پر قرآن وحدیث سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں خلیفہ کا کام صرف نمازیں پڑھا دینا، جنازے پڑھا دینا اور لوگوں کے نکاح پڑھا دینا ہے اُسے نظام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ یہ کہنے والوں کی سخت گستاخانہ حرکت ہے۔ یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے اس کیلئے کسی خلیفہ کی کیا ضرورت ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ تقریر سنی ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تقریر اتنی درد انگیز اور اس قدر جوش سے لبریز تھی کہ لوگوں کی روتے روتے گھگھی بندھ گئی ۔ خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ که دوباره محمد علی صاحب سے دوبارہ بیعت یعقوب علی صاحب سے کہا کہ و بیعت کرو چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی ۔ میرا ذہن اس وقت اِدھر منتقل نہیں ہوا کہ ان سے بیعت ان کے جرم کی وجہ سے لی جا رہی ہے۔ چنانچہ میں نے بھی بیعت کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفہ اول نے میرے ہاتھ کو پیچھے ہٹا دیا اور فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ انہوں نے تو ایک جرم کیا ہے جس کی وجہ سے دوبارہ ان سے بیعت لی جا رہی ہے مگر تم نے کونسا جرم کیا ہے۔