انوارالعلوم (جلد 15) — Page 462
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اور نہ جس غرض کیلئے انہیں مقرر کیا گیا تھا اس کے متعلق انہوں نے کوئی فیصلہ کیا ہے اس لئے میرے لئے ان کا فیصلہ کوئی محبت نہیں ۔ مگر انہوں نے حضرت علیؓ کے اس عذر کو تسلیم نہ کیا اور بیعت سے علیحدہ ہو گئے اور خوارج کہلائے اور انہوں نے یہ مذہب نکالا کہ واجب الاطاعت خلیفہ کوئی نہیں ۔ کثرت مسلمین کے فیصلہ کے مطابق عمل ہوا کرے گا کیونکہ کسی ایک شخص کو امیر واجب الاطاعت ماننا لا حُكُمَ إِلَّا لِلَّهِ اس کے خلاف ہے ۔ یہ بارہ حضرت علی کی خلافت بلا فصل کا نظریہ خلافت کے ان میں پہلاں صلى الله عروسة جو واقع ہوا۔ اس موقعہ پر جو لوگ حضرت علیؓ کی تائید میں تھے انہوں نے ان امور کا جواب دینا شروع کیا اور جواب میں یہ امر بھی زیر بحث آیا کہ رسول کریم ﷺ کی بعض پیشگوئیاں حضرت علیؓ کے متعلق ہیں ۔ یہ پیشگوئیاں جب تفصیل کے ساتھ بیان ہونی شروع ہوئیں تو ان پر غور کرتے ہوئے بعض غالیوں نے یہ سوچا کہ خلافت پر کیا بحث کرنی ہے ۔ ہم کہتے ہیں حضرت علی کی خلافت کسی انتخاب پر مبنی نہیں بلکہ صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو رسول کریم ﷺ نے ان کے متعلق کی تھیں اس لئے آپ رسول کریم ﷺ کے مقرر کردہ خلیفہ بلا فصل ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میرے متعلق جب مصلح موعود کے موضوع پر بحث کی جائے تو کوئی شخص کہہ دے کہ ان کو تو ہم اس لئے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہیں نہ اس لئے کہ ان کی خلافت جماعت کی اکثریت کے انتخاب سے عمل میں آئی ۔ جس دن کوئی شخص ایسا خیال کرے گا اسی دن اس کا قدم ہلاکت کی طرف اُٹھنا شروع ہو جائے گا کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ صرف ایک شخص کی امامت کا خیال دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے اور نظام خلافت کی اہمیت کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔ غرض حضرت علیؓ کے متعلق بعض غالیوں نے رسول کریم علی کی پیشگوئیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کی خلافت صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو آپ نے ان کے متعلق کیں کسی انتخاب پر مبنی نہیں ہے ۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اس طرف مائل ہو گئے کہ حضرت علیؓ در حقیقت امام بمعنی مأمور تھے اور یہ کہ خلافت ان معنوں میں کوئی بھے نہیں جو مسلمان اس وقت تک سمجھتے رہے ہیں بلکہ ضرورت پر خدا تعالیٰ کے خاص حکم سے امام مقرر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی ہدایت وراہنمائی کا موجب ہوتا ہے۔