انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 18

انوار العلوم جلد ۱۵ سے وہ سینکڑوں ہزاروں سال کی جدوجہد کے بعد بھی آزاد نہیں ہوسکی ۔ انقلاب حقیقی آرین تحریک کا پیغام جدید نسلی امتیاز یاد رکھنا چاہے کہ آرین تہذیب کی بنیاد )EUGENICS( يوجينكس پر تھی یعنی ان کی ساری بنیاد اس امر پر پر تھی کہ سب انسان ؟ یکساں نہیں ہیں بلکہ انسانوں انسانوں میں فرق ہوتا ہے۔ کوئی اعلیٰ ہوتا ہے تو کوئی ادنی ۔ جیسے کوئی امیر ہوتا ہے تو کوئی غریب، کوئی مضبوط ہوتا ہے تو کوئی کمزور ، کوئی اچھے دماغ کا کوئی بُرے دماغ کا اور یہ کہ اس فرق کو خاص حالات کے ماتحت پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کا فائدہ اسی میں ہے کہ انسانوں میں سے جو اعلیٰ ہوں انہیں آگے کیا جائے تاکہ نسلِ انسانی اعلیٰ کمالات تک پہنچ سکے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مضبوط باپ کا بیٹا ضرور مضبوط ہوگا اور کمزور باپ کا بیٹا کمزور ہوگا ۔ اب اگر باپ کی وجہ سے جسم اعلیٰ بن سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ دماغ اعلیٰ نہ بنے ؟ پس اگر اچھے دماغ والا باپ ہوگا اور اچھے دماغ والی ماں ہوگی تو ان کا بیٹا بھی یقیناً اچھے دماغ والا ہوگا ۔ اس صورت میں اگر اس شخص سے جو نسل چلے وہ ہمیشہ اپنی قوم میں ہی شادیاں کرتی رہے تو ان کی قوم دوسری اقوام جو چلے سے ضرور اعلیٰ ہوگی ۔ یہ آرین تہذیب جہاں بھی گئی ہے اس نے اپنی حکومت کو اسی بنیاد پر رکھا ہے یعنی اس نسلی امتیاز پر جو عقلی اور دماغی اور مذہبی دائروں پر حاوی تھا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ایک برہمن کالڑ کا علم کے لحاظ سے ہمیشہ دوسروں پر فوقیت رکھے گا ، ایک کھتری کالڑ کا سپہ گری کے لحاظ سے دوسروں پر فوقیت رکھے گا اور جب ایک قوم جسے نسلی امتیاز کی وجہ سے برتری حاصل ہو گی آپس ہی میں شادیاں کرے گی تو وہ دنیا سے کبھی مٹ نہیں سکے گی اس لئے ان کا مذہب بھی اسی تحریک کے ماتحت چلتا ہے مثلاً وید آئے تو انہوں نے یہ حکم دے دیا کہ اگر شو در وید کوسن بھی لے تو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے۔ یہم یہ برہمن کا حق ہے کہ وہ وید سُنے یا کھتری اور ولیش کا حق ہے کہ وید سنے ۔ شودر کا کیا حق ہے کہ وید سنے گویا ان کے مذہب میں بھی یہی تحریک شامل ہو گئی ۔ دیا پھر یہ جو وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان دنیا میں واپس آتا ہے اور مختلف جونوں میں دنیا : ڈالا جاتا ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہ عقیدہ بھی اسی فلسفہ کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ نسل کے درجہ کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ اعلیٰ روحیں اس میں شامل ہوتی رہیں اور اس کا طریق انہوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہر قوم میں جو اعلیٰ اور نیک روحیں ہیں وہ مرنے کے بعد برہمن