انوارالعلوم (جلد 15) — Page 452
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده آتا ہے جسے قضیہ قرطاس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قضیہ قرطاس کی تفصیل یہ ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کو مرض الموت میں جب تکلیف بہت بڑھ گی بڑھ گئی تو آپ نے صلى على صحابہ سے فرمایا کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تا کہ میں تمہارے لئے کوئی ایسی بات لکھوا دوں جس کے نتیجہ میں تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر شیعہ کہتے ہیں کہ دراصل رسول کریم یہ لکھوانا چاہتے تھے کہ میرے ے بعد بعد علی علی خلیفہ ہوں اور اور ان انہیں کو امام تسلیم کیا جائے لیکن حضرت عمرؓ نے آپ کو کچھ لکھ نہ دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ جانے دو، رسول کریم ﷺ کو اس علی کو اس وقت تکلیف زیادہ ہے اور یہ صلى الله صلى الله مجھ لکھوانے کے مناسب نہیں کہ آپ کی تکلیف کو اور زیادہ بڑھایا جائے ہمارے لئے ہدایت کے لئے قرآن کافی ہے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ شیعہ کہتے ہیں کہ یہ ساری چالا کی عمر کی تھی کیونکہ وہ نہیں چا۔ چاہتے تھے کہ رسول کریم ہی کوئی کوئی و وصیت کر جائیں تا کہ بعد میں حضرت علیؓ کو محروم کر وہ خود حکومت کو سنبھال لیں ۔ اگر وہ رسول کریم ﷺ کو وصیت لکھوانے دیتے تو آپ ضرور حضرت علی کے حق میں وصیت کر جاتے ۔ اس اعتراض کے کئی جواب ہیں مگر میں اس وقت صرف دو جواب دینا چاہتا ہوں ۔ دشمن عليه صلى الله صلى الله اول یہ کہ رسول کریم و اگر حضرت علی کے حق میں ہی خلافت کی وصیت کرنا چاہتے تھے تو حضرت عمرؓ کے انکار پر آپ نے دوبارہ یہ کیوں نہ فرمایا کہ قلم دوات ضرور لاؤ۔ میں تمہیں ایک اہم وصیت لکھوانا چاہتا ہوں ۔ آخر آپ کو پتہ ہونا چاہئے تھا کہ عمر ( نَعُوذُ بِاللهِ ) علی کا دمن ہے اور اس وجہ سے عمر کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح علی کو کوئی فائدہ نہ پہنچ جائے ۔ ایسی صورت میں یقیناً رسول کریم ﷺ حضرت عمر سے فرماتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے بے شک تکلیف ہے مگر میں اس تکلیف کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ تم جلدی قلم دوات لاؤ تا کہ میں تمہیں کچھ لکھوا دوں ۔ مگر رسول کریم ﷺ نے دوبارہ قلم دوات لانے کی ہدایت نہیں دی بلکہ حضرت عمر نے جب کہا کہ ہماری ہدایت کے لئے خدا کی کتاب کافی ہے تو رسول کریم ﷺ خاموش ہو گئے ۔ ۲۲ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم و در حقیقت وہی کچھ لکھوانا چاہتے تھے جس کی طرف حضرت عمر نے اشارہ کیا تھا اور چونکہ رسول کریم ﷺ کے سامنے انہوں نے ایک رنگ میں خدا کی کتاب پر ہمیشہ عمل کرنے کا عہد کر لیا اس لئے رسول کریم ﷺ نے اس بات کی ضرورت نہ سمجھی کہ آپ کوئی علیحدہ وصیت لکھوانے پر اصرار کریں ۔ پس اس واقعہ سے حضرت عمر پر نہ صرف کوئی الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ آپ کے خیال اور رسول کریم ﷺ کے خیال کا تو ارد