انوارالعلوم (جلد 15) — Page 448
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ افواہ محض منافقوں کی شرارت ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور وہ فوت نہیں ہوئے ۔ آپ آسمان پر خدا سے کوئی حکم لینے کیلئے گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں واپس آ جائیں گے اور منافقوں کو سزا دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اس بات پر اتنا اصرار کیا کہ انہوں نے کہا اگر کسی نے میرے سامنے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن اڑا دوں گا اور یہ کہہ کر ایک جوش اور غضب کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لڑکائے مسجد میں ٹہلنے لگ گئے ۔ کے لوگوں کو ان کو یہ بات اتنی بھلی معلوم ہوئی کہ ان میں سے کسی نے اس بات کے انکار کی ضرورت : انکار کی ضرورت نہ سمجھی حالانکہ قرآن میں رسول کریم ﷺ کی نسبت یہ صاف صلى الله صلى الله علوسم کے طور پر لکھا ہوا تھا کہ آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ " اگر محمد رسول اللہ علیہ فوت ہو جائیں یا خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں بل پھر جاؤ گے؟ مگر باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی نص صریح موجود تھی جس سے رسول کا وفات پانا ثابت ہو سکتا تھا پھر بھی انہیں ایسی ٹھوکر لگی کہ ان کہ ان میں سے بعض نے کریم کا علوس علوس بلا لائے ۔ : رسول کریم ﷺ صلى الله کی وفات پر پر یہ یہ خیال کر لیا کہ آپ فوت نہیں ہوئے یہ منافقوں نے جھوٹی افواہ اُڑادی ہے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ محبت کی شدت سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی ایسا ممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو جائیں اور وہ زندہ رہیں ۔ بعض صحابہ جو طبیعت کے ٹھنڈے تھے انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو انہیں خیال آیا کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو کوئی ابتلاء آ جائے چنانچہ وہ جلدی جلدی سے گئے اور حضرت ابوبکر کو بلا لا 2 ۔ جب وہ مسجد میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ہر شخص جوش اور خوشی کی حالت میں نعرے لگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے منافق جھوٹ بولتے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں ۔ گویا ایک قسم کے جنون کی حالت تھی جو ان پر طاری تھی۔ جیسے میں نے کہہ دیا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو بتاؤں گا کہ آپ کی وفات پرڈ وفات پر دشمنوں نے جو فلاں اعتراض کیا ہے اس کا یہ جواب ہے۔ حضرت ابو بکر نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں رسول کریم ﷺ کا جسد مبارک پڑا ہوا تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں ۔ حضرت ابو بکڑ نے یہ سنتے ہی کپڑا اٹھایا اور آپ کی پیشانی پر انہوں نے بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا ۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک تو آپ وفات پا جائیں اور دوسری طرف قوم پر الله