انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 443

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ہیں کہ قرآن میں سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر فلاں مجرم کرو گے تو تمہیں یہ سزا ملے گی اور فلاں مجرم کرو گے تو یہ سزا ملے گی اور جب کہ قرآن نے سزائیں بھی مقرر کی ہیں تو معلوم ہوا کہ محبت کا اصول گلیہ ا اصول گلیہ درست نہیں کیونکہ جہاں احکام کی اطاعت محض احکام کی اطاعت حض محبت سے وابستہ ہو وہاں سزائیں مقرر نہیں کی جاتیں۔ پھر اسلام نے صرف چند ا حکام نہیں دیئے بلکہ نظام حکومت کی تفصیل بھی بیان کی ہے ۔ گو بعض جگہ اس نے تفصیلات کو بیان نہیں بھی کیا اور اس میں لوگوں کیلئے اُس نے اجتہاد کے دروازہ کو گھلا رکھا ہے تا کہ اُن کی عقلی اور فکری استعدادوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ چنانچہ بعض امور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے اصل اسلامی مسئلہ لوگوں کے سامنے پیش کیا اور بعض امور میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے حالات پیش آمدہ کے مطابق لوگوں کی رہبری کی بلکہ بعض امور ایسے ہیں جن کے متعلق آج تک غور و فکر سے کام لیا جا رہا ہے ۔ مثلاً باپ اگر بیٹی کا بلوغت سے پہلے نکاح کر دے تو بالغ ہونے پر خیار بلوغ کا مسئلہ اسے فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ یہ ایک سوال ہے جو جو عام طور پر پیدا ہوتا ر ہوتا رہتا ہے۔ فقہ کی پُرانی کتابوں میں یہی ذکر ہے کہ باپ اگر بیٹی کا نکاح کر دے تو اُسے خیار بلوغ حاصل نہیں ہوتا مگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق ہے کہ اگر وہ بالغ ہونے پر اس رشتہ کو پسند نہ کرے تو اسے رڈ کر دے۔ اسی طرح اور بہت سے فقہی مسائل ہیں جو اسلامی تعلیم کے ماتحت آہستہ آہستہ نکلتے آتے ہیں اور بہت سے آئندہ زمانوں میں نکلیں گے۔ پس ہمیں تفصیلات سے غرض نہیں اور نہ اس وقت یہ سوال پیش ہے کہ اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خاص رنگ کی حکومت دی تھی یا نہیں کیونکہ نظام حکومت علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں ۔ انگلستان کا امریکہ سے امریکہ کا روس سے اور روس کا جرمنی سے نظام حکومت مختلف ہے مگر اس اختلاف کی وجہ سے یہ تو نہیں کہ ایک کو ہم حکومت کہیں اور دوسرے کو ہم حکومت نہ کہیں ۔ حکومت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی خاص نظام مقرر کیا جائے اور لوگوں کی باگ ڈور ایک آدمی یا ایک جماعت کے سپرد کر کے ملکی حدود کے اندر اس کو قائم کیا جائے ۔ پس دیکھنا یہ ہے کہ کسی نظام کا خواہ وہ دوسرے نظاموں سے کیسا ہی مخالف کیوں نہ ہو اسلام حکم دیتا ہے یا نہیں اور اُس نظام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلاتے تھے یا نہیں ۔