انوارالعلوم (جلد 15) — Page 440
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده حد تک ان قوانین کی اطاعت سے بھی باہر ہو جاتا ہے۔ غرض حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا بعض باتوں سے روکنا ، افراد کی مالی جانی اور رہائشی آزادی پر ضرورت کے وقت پابندیاں عائد کرنا ٹیکس وصول کرنا ، لوگوں کو فوج میں بھرتی کرنا، معاہدات کرنا اور قضاء کے کام کو سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو یہ سب اختیارات دیئے گئے ہیں یا نہیں ۔ پہلا امر ملکی حد بندی تھی ۔ سو اس اختیار کا رسول کریم ﷺ کو ملنا ایک واضح امر ہے کیونکہ آپ نے اعلان کر دیا کہ اتنے حصہ میں مسلمانوں کے سوا اور کوئی نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی آیا تو اسے نکال دیا جائے گا ۔ دوسری طرف فرمادیا کہ جو لوگ اس حد کے اندر رہتے ہیں ان کے لئے یہ یہ شرائط ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسروں سے معاہدات کرنے کا بھی اختیار دیا اور پھر شرائط کے ماتحت اس بات کا بھی اختیار دیا کہ آپ اگر مناسب سمجھیں تو معاہدہ کو منسوخ کر دیں اسی طرح آپ کو ٹیکس وصول کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ آپ کو ضرورت پر لوگوں کی مالی ، جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ غرض حکومت کے جس قدر اختیارات ہوتے ہیں وہ تمام رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے دے دیئے ۔ حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا ہوتا ہے رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ یہ حق دیتا ہے۔ حکومت کا کام بعض باتوں تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو یہ حق بھی دیتا ۔ سے روکنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ صلى الله عروسه پھر افراد کی مالی ، جانی اور دیتا ہے ۔ پھرا رہائشی آزادی کو حکومت ہی خاص حالات میں سلب کر سکتی ہے۔ چنانچہ اس کا حق بھی اللہ تعالیٰ ۔ آپ کو دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم ان کے مال لے سکتے ہو، ٹیکس وصول کر سکتے ہو، جانیں ان ان سے طلب کر سکتے ہوا اور جنگ پر لے جا سکتے ہو ۔ اسی طرح ملک سے لوگوں کو نکالنے کا اختیار بھی آپ کو دیا گیا ۔ پھر قضاء حکومت کا کام ہوتا ہے سو یہ ومت کا کام ہوتا ہے سو یہ حق بھی اسلام آپ کو دیتا ہے اور آپ کے فیصلہ کو آخری فیصلہ قرار دیتا ہے۔ پھر حکومت کی قسم بھی بتا دی کہ رسول کریم ﷺ اس بات کے پابند نہیں کہ تمہاری سب باتیں مانیں بلکہ تم اس بات کے پابند ہو کہ ان کی سب باتیں مانو کیونکہ اگر یہ تمہاری سب باتیں مانے تو اس کے خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں ۔ پس ان آیات سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا تعلق امور حکومت کے انصرام سے وقتی ضرورت کے ماتحت نہ تھا بلکہ شریعت کا حصہ تھا اور جس طرح نماز روزہ وغیرہ احکام مذہب کا الله جزو ہیں اسی طرح رسول کریم ﷺ کا نظام ملکی کا کام اور طریق بھی مذہب ریق بھی مذہب اور دین کا حصہ ہے اور دُنیوی یا وقتی ہرگز نہیں کہلا سکتا ۔