انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 411

انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمد یہ کانگرس کے بہت بڑے لیڈروں میں سے ہیں ۔ انہوں نے ان جلسوں کے متعلق کہا تھا کہ یہ ہند و مسلم اتحاد کے لئے بہترین تجویز ہے اور میں ان جلسوں کو سیاسی جلسے کہتا ہوں اس لئے کہ ان کے نتیجہ میں ہندوم و مسلم ایک ہو جائیں گے اور اس طرح دونوں قوموں میں اتحاد کا دروازہ کھل جائے گا۔ میرا ارادہ ہے کہ ایسے اشتہار ایک لاکھ ہندی میں ، ایک لاکھ گورمکھی میں ، پچاس ہزار تامل میں اور اسی طرح مختلف زبانوں میں بکثرت شائع کئے جائیں اور ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اسلام کے موٹے موٹے مسائل غیر مسلموں تک پہنچا دیئے جائیں ۔ اشتہا ر ا یک صفحه دو صفحہ یا زیادہ سے زیادہ چار صفحہ کا ہو اور کوشش کی جائے کہ ہر شخص تک اسے پہنچا دیا جائے اور زیادہ نہیں تو ہندوستان کے ۳۳ کروڑ باشندوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک اشتہار پہنچ جائے یا ر پہنچ جائے یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہو گی اسی طرح میرا ارادہ ہے کہ ایک چھوٹا سا مضمون چار یا آٹھ صفحات کا مسلمانوں کے لئے لکھ کر ایک لاکھ شائع کیا جائے جس میں مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کے دعاوی سے آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ آپ نے آ کر کیا پیش کیا ہے تا لوگ غور کر سکیں ۔ پہلے یہ کام چھوٹے پیمانہ پر ہوں مگر کوشش کی جائے کہ آہستہ آہستہ ان کو وسیع کیا جائے ۔ میں چاہتا ہوں کہ اس رقم کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اس کی آمد میں سے خرچ ہوتا رہے اور سرمایہ محفوظ رہے۔ جیسے تحریک جدید کے فنڈ کے متعلق میں کوشش کر رہا ہوں تاکسی سے پھر چندہ مانگنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس میں دینی تعلیم جو خلفاء کا کام ہے وہ بھی آجائے گی پھر آرٹ اور سائنس کی تعلیم نیز غرباء کی تعلیم و ترقی بھی خلفاء کا اہم کام ہے ۔ ہماری جماعت کے غرباء کی اعلیٰ تعلیم کے لئے فی الحال انتظامات نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گند ذہن لڑکے جن کے ماں باپ استطاعت رکھتے ہیں تو پڑھ جاتے ہیں مگر ذہین بوجہ غربت کے رہ جاتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس رقم سے اس کا بھی انتظام کیا جائے اور میں نے تجویز کی ہے کہ اس کی آمد سے شروع میں فی الحال ہر سال ایک ایک وظیفہ مستحق طلباء کو دیا جائے ۔ پہلے سال مڈل سے شروع کیا جائے ۔ مقابلہ کا امتحان ہو اور جولڑ کا اول رہے اور کم سے کم ستر فی صدی نمبر حاصل کرے اسے انٹرنس تک بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ دیا جائے اور پھر انٹرنس میں اوّل ، دوم اور سوم رہنے والوں کو تھیں روپیہ ماہوار، جو ایف ۔ اے میں یہ امتیاز حاصل کریں انہیں ۴۵ روپے ماہوار اور پھر جو بی ۔اے میں اول آئے اسے ۲۰ روپے ماہوار دیا جائے اور تین سال کے بعد جب